امریکی ریاست مشی گن سے سینیٹ کے امیدوار عبدالسید نے کہا ہے کہ ان کی توجہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان رکن بننے کے اعزاز کے بجائے عوامی مسائل کے حل اور اپنے پالیسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالسید کا کہنا تھا کہ اگر وہ سینیٹ کے لیے منتخب ہوگئے تو یہ امریکی معاشرے کے تنوع اور وسعت کا ایک اہم پیغام ہوگا۔ ان کی کامیابی سے یہ ثابت ہوگا کہ امریکا ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذہبی، نسلی اور سماجی پس منظر رکھنے والے افراد کو بھی آگے بڑھنے اور قومی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی ممکنہ کامیابی صرف ان کے لیے نہیں بلکہ ان نوجوانوں کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث ہوگی جنہوں نے سیاسی بیانات اور انتخابی مہمات کے دوران مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو تنقید اور تعصب کا نشانہ بنتے دیکھا ہے۔عبدالسید کے مطابق وہ اپنی انتخابی مہم میں مذہبی شناخت کے بجائے عوامی مسائل اور پالیسیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کا اصل مقصد سینیٹ میں پہنچ کر ایسے اقدامات کرنا ہے جن سے عام امریکی شہریوں کی زندگیوں میں بہتری آسکے۔
امریکی سینیٹ میں پہلی مسلمان نمائندگی کا امکان
عبدالسید کی کامیابی کی صورت میں وہ امریکی تاریخ میں سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن بن سکتے ہیں۔ ان کی انتخابی مہم میں صحت کی سہولیات، سستی رہائش، روزگار، معاشی عدم مساوات اور عوامی فلاح و بہبود جیسے معاملات کو مرکزی اہمیت حاصل رہی ہے۔وہ تمام امریکی شہریوں کے لیے صحت کی سہولیات کی فراہمی اور بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات میں کمی کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست کا محور عوامی ضروریات اور عام شہریوں کے مسائل ہونے چاہئیں۔
مذہبی شناخت انتخابی مہم کا اہم موضوع
مشی گن میں انتخابی مہم کے دوران عبدالسید کی مذہبی شناخت بھی سیاسی بحث کا موضوع بنی رہی۔ انہیں بعض مخالفین کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے حامیوں نے ان حملوں کو مذہبی تعصب قرار دیا۔عبدالسید نے اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا کہ وہ مسلمان سینیٹر بننے کے لیے نہیں بلکہ امریکی سینیٹ کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں اور ان کی مذہبی شناخت ان کی ذاتی زندگی کا حصہ ہے۔امریکی ریاست مشی گن کی سینیٹ کی نشست کے لیے ان کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز سے ہے۔ یہ انتخاب امریکی سینیٹ میں دونوں بڑی جماعتوں کی سیاسی پوزیشن کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔