اسلام آباد/خضدار:پاکستان نے بدھ کے روز عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے کا فوری نوٹس لے، جس میں تین بچوں سمیت پانچ افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
پاکستان نے اس حملے کا الزام بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں پر عائد کیا ہے۔دفتر خارجہ اور اعلیٰ حکومتی حکام نے اپنے بیانات میں کہا کہ بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا دہشت گردی کی بدترین مثال ہے، جو نہ صرف اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول بلکہ انسانیت سوز عمل بھی ہے۔ پاکستان نے کہا کہ یہ حملہ بھارتی پراکسیز کے ذریعے خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی دانستہ کوشش ہے۔
دھماکے کی تفصیلات:
واقعہ خضدار کے زیرو پوائنٹ کے قریب پیش آیا، جب ایک اسکول بس کو زور دار دھماکے سے نشانہ بنایا گیا۔ بس میں 40 سے زائد بچے سوار تھے، جو اپنے تعلیمی ادارے کی جانب روانہ تھے۔ دھماکے میں:تین معصوم طلباء، ایک ڈرائیور اور اس کا اسسٹنٹ شہید ہوئے۔30 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 14 کو شدید زخمی حالت میں کوئٹہ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کیا گیا۔زخمیوں میں 12 بچے، ایک خاتون اور ایک مرد شامل ہیں، جن میں سے 8 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
حکومتی ردعمل اور الزامات:
وزیراعظم، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے فوری طور پر کوئٹہ پہنچ کر متاثرہ بچوں اور خاندانوں سے ملاقات کی۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ:"یہ حملہ بھارت کی اُس مایوس کن پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی کا سہارا لے رہا ہے۔"بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ نہ صرف انسانیت کے خلاف جرم ہے بلکہ بھارت کی کھلی جارحیت کا مظہر ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"بھارت بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) جیسی تنظیموں کو پاکستان میں خونریزی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔"انہوں نے کہا کہ پاکستان جلد ہی بین الاقوامی برادری کے سامنے خضدار حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد پیش کرے گا۔
ریاستی مؤقف اور عالمی اپیل:
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انسانیت سوز دہشت گردی کا نوٹس لے اور بھارت کے کردار کو بے نقاب کرے جو خود کو دہشت گردی کا شکار ظاہر کرتا ہے لیکن درپردہ اس کا سرپرست ہے۔حکومتی بیان میں کہا گیا:"اسکول بس پر حملہ بھارت کے پراکسیز کی کارستانی ہے، جو خطے کو غیر مستحکم کرنے اور پاکستان کے بچوں کو نشانہ بنانے جیسا سنگین جرم کر رہے ہیں۔"حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیکیورٹی فورسز اس دہشتگردی میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گی۔
قومی اتحاد اور جواب:
وزیراعظم اور آرمی چیف نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ پوری قوم کو متحد ہو کر بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی ہوگی۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان نہ صرف دفاع کرے بلکہ دشمن کے ان گھناؤنے ہتھکنڈوں کو منہ توڑ جواب دے۔