قومی اسمبلی وقفہ سوالات حکومت کا قائد اعظم یونی ورسٹی کی 298ایکڑ زمین پر قبضہ ہونے کا اعتراف

وفاقی وزیر تعلیم نے قائد اعظم یونی ورسٹی کی زمین پر قبضہ ہونے کا تحریری جواب پیش کردیا، مالی سال 2023-24  میں امریکا کو برآمدات و درآمدات کے اعداد و شماربھی پیش
امریکا نے پاکستان سے درآمدات پر 30فیصد ٹیرف عائد کیا ہے تاہم یہ 90دن کے لیے معطل ہے، وزارت خزانہ کی جانب سے نئے ٹیکس دہندگان کی تفصیلات بھی پیش کردی گئیں  
 اسلام آباد(آئی این پی )وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2023-24کے دوران امریکا کو پاکستان کی برآمدات 5ارب 30کروڑ ڈالر رہیں جب کہ درآمدات 2ارب 20کروڑ ڈالر رہیں۔بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خزانہ کی جانب سے پاکستان کی امریکا کو برآمدات اور درآمدات کے اعداد و شمار کی رپورٹ پیش کردی گئی ۔وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران مارچ تک پاکستان کی امریکا کو برآمدات 4ارب 40کروڑ ڈالر رہیں جب کہ درآمدات 1ارب 90کروڑ ڈالر رہیں۔ امریکا کو پاکستان کی برآمدات میں تیار شدہ ملبوسات ، طبی آلات ، پی ای ٹی بوتل گریڈ وغیرہ شامل ہیں ۔رپورٹ کے مطابق امریکا سے پاکستان کی بڑی درآمدات میں کپاس ،لوہا ،سٹیل سٹرکچر ، کمپیوٹرز، سویا بین، بادام اور پٹرولیم مصنوعات شامل ہیں ۔ وزارت خزانہ کے تحریری جواب کے مطابق امریکا نے پاکستان سے درآمدات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے تاہم یہ ٹیرف 90دن کے لیے معطل ہے۔وقفہ سوالات کے دوران اسلام آباد کی سب سے بڑی قائد اعظم یونی ورسٹی کی 298ایکڑ زمین پر قبضہ ہونے کا حکومت نے اعتراف کرلیا۔وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے قائد اعظم یونی ورسٹی کی 298ایکڑ زمین پر قبضہ ہونے کا تحریری جواب قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ وزارت تعلیم کے مطابق قائد اعظم یونی ورسٹی کی کل 1709ایکڑ 4کنال 12مرلہ زمین ہے۔جبکہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خزانہ کی جانب سے نئے ٹیکس دہندگان کے حوالے سے تفصیلات بھی پیش کردی گئیں، جس میں بتایا گیا کہ موجودہ مالی سال کے دوران 4 لاکھ 48ہزار 683نئے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان سے ٹیکس گوشوارے حاصل کیے جاچکے ہیں۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق موبائل سمز بلاک کرنے کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں کو 4لاکھ 58ہزار 342نان فائلرز کا ڈیٹا شیئر کیا گیا ہے اور اب تک 2لاکھ 76ہزار 564افراد نے موبائل سمز بند ہونے کے بعد اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر نے مالی سال 2024-25 میں 24 لاکھ 3 ہزار 831 نئے ٹیکس دہندگان رجسٹرڈ کیے ہیں۔ نئے ٹیکس دہندگان سے ایک ارب 73 کروڑ سے زائد ٹیکس جمع کیا گیا ہے۔