یوم شہادت حضرت علی مرتضیٰ کے موقع پر پنجاب پولیس نے سکیورٹی کے مکمل انتظامات کیے ہیں تاکہ عزاداری جلوسوں اور مجالس کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس دن کی عزاداری کے جلوسوں اور مجالس میں ہزاروں عزاداروں کی شرکت متوقع ہے، اور سکیورٹی کے لئے بھرپور اقدامات کیے گئے ہیں۔
پنجاب پولیس کے انتظامات کی تفصیلات:
پولیس افسران اور اہلکاروں کی تعیناتی:
لاہور سمیت پورے صوبہ پنجاب میں 192 عزاداری جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے 17 ہزار پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
955 مجالس کی سکیورٹی کے لیے 9 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار موجود ہیں۔
لاہور میں مرکزی عزاداری جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کے لیے 8 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
سکیورٹی میکانزم:
عزاداروں کو تین درجاتی حصار پر مبنی سکیورٹی میکانزم کے ذریعے مکمل چیکنگ کے بعد جلوسوں میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
خواتین عزاداروں کی سکیورٹی چیکنگ کے لیے خصوصی طور پر لیڈی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
سادہ لباس میں کمانڈوز اور روٹس کی چھتوں پر سنائپرز تعینات ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔
مستقل مانیٹرنگ:
سیف سٹیز اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے کنٹرول رومز سے عزاداری جلوسوں اور مجالس کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
مرکزی کنٹرول اینڈ مانیٹرنگ روم سنٹرل پولیس آفس میں قائم کیا گیا ہے، جہاں سے تمام تر سرگرمیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ٹریفک کے انتظامات:
پولیس حکام نے متبادل راستوں کے ذریعے ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں، تاکہ عزاداروں کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ ہو۔
مختلف پولیس فورسز کا تعاون:
تمام فیلڈ فارمیشنز، بشمول ڈولفن سکواڈ، پیرو، سپیشل برانچ اور سی ٹی ڈی، یوم شہادت علی کے سکیورٹی انتظامات میں مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں گے۔
آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز حساس اضلاع میں موجود رہ کر جلوسوں اور مجالس کے سکیورٹی انتظامات کی چیکنگ کریں گے۔
یہ انتظامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یوم شہادت حضرت علی کے موقع پر عزاداروں کی حفاظت اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی زیرنگرانی پولیس افسران اور اہلکاروں کی ٹیمیں دن رات سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔