خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰؓ کا یوم شہادت آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰؓ کا یوم شہادت آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک: یوم شہادت حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا عقیدت و احترام کے ساتھ انعقاد، سکیورٹی انتظامات مکمل

آج خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا یوم شہادت ملک بھر میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ماتمی جلوسوں اور مجالس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن کی سکیورٹی کے لئے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

کراچی میں سکیورٹی انتظامات: کراچی میں مرکزی جلوس آج دوپہر ایک بجے نشتر پارک سے برآمد ہو گا، جو کہ کھارادر میں امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں پر اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کی گزرگاہ پر آنے والی گلیوں اور سڑکوں کو کنٹینر لگا کر بند کیا گیا ہے۔ شرکاء کو صرف واک تھرو گیٹس کے ذریعے داخلے کی اجازت دی جائے گی، اور راستوں پر کلوز سرکٹ کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔جلوس کے روٹ پر آنے والی دکانیں بھی بند کر دی گئی ہیں، اور ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ کوریڈور تھری سے صدر آنے والی سڑک کو پارکنگ پلازہ سے بند کیا گیا ہے۔جلوس کی سکیورٹی کے لئے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں، جس میں رینجرز اور پولیس کے 4 ہزار سے زائد اہلکار ڈیوٹی پر تعینات ہوں گے۔

لاہور میں مرکزی جلوس: لاہور میں یوم شہادت حضرت علیؓ کا مرکزی جلوس موچی دروازے سے نکالا جائے گا، جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ میں اختتام پذیر ہو گا۔ جلوس کے شرکاء ماتم اور زنجیر زنی بھی کریں گے۔

دیگر شہروں میں سکیورٹی انتظامات: پشاور اور راولپنڈی میں نکالے گئے مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اختتام پذیر ہو چکے ہیں۔ کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں بھی جلوس نکالے جائیں گے جو اپنی آخری منزل پر اختتام پذیر ہوں گے۔

موبائل فون سروس بند اور ڈبل سواری پر پابندی: کمشنر کراچی کی جانب سے یوم علیؓ کے موقع پر شہر میں دفعہ 144 کے تحت موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح، سندھ میں یوم شہادت حضرت علیؓ کے موقع پر تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

کوئٹہ میں موبائل فون سروس بند: کوئٹہ شہر میں جلوس کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے موبائل فون سروس بھی بند کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔یوم شہادت حضرت علیؓ کے موقع پر سکیورٹی کے تمام انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ حکام نے سخت نگرانی اور حفاظتی تدابیر اختیار کی ہیں تاکہ یہ دن امن و سکون کے ساتھ منایا جا سکے۔