ویب ڈیسک: حضرت علی کا یومِ شہادت ملک بھر میں مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
آج پاکستان کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں عزاداری کے جلوس برآمد ہوئے ہیں جبکہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں یوم علیؓ کا مرکزی جلوس مبارک حویلی سے برآمد ہوا، جو اپنے قدیمی اور روایتی راستوں سے ہوتا ہوا مغرب کے قریب کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے صوبے بھر میں سکیورٹی مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ مجالس اور عزاداری جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے 30 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ لاہور میں 8 ہزار سے زیادہ افسران و اہلکار مختلف مقامات پر ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق:
217 عزاداری جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے تقریباً 20 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔994 مجالس کی حفاظت کے لیے 10 ہزار سے زائد افسران و اہلکار ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔حکام کے مطابق صوبے بھر میں 32 مرکزی عزاداری جلوس برآمد ہوں گے جبکہ 67 اہم مجالس منعقد کی جائیں گی۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ جلوسوں اور مجالس میں آنے والے شرکاء کی مکمل چیکنگ کو یقینی بنایا جائے۔
اضافی سکیورٹی اقدامات
سکیورٹی انتظامات کے تحت:خواتین عزاداروں کی تلاشی کے لیے لیڈی پولیس اہلکار تعینات ہیں۔جلوسوں میں سادہ لباس میں کمانڈوز بھی موجود ہوں گے۔جلوس کے راستوں پر واقع عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کیے گئے ہیں تاکہ سکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
دیگر شہروں میں صورتحال
کراچی میں مرکزی جلوس سے قبل نشتر پارک میں مجلس عزا منعقد ہوگی، جبکہ جلوس حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ اس دوران صدر کی مختلف سڑکوں اور گلیوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔راولپنڈی میں یوم علیؓ کا مرکزی جلوس امام بارگاہ کرنل مقبول پہنچ کر اختتام پذیر ہو گیا۔اسی طرح پشاور میں یوم علیؓ کا جلوس امام بارگاہ سید عالم شاہ پر ختم ہوا۔ جلوس کوچی بازار سے ہوتا ہوا واپس اسی مقام پر اختتام پذیر ہوا۔