آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلہ صرف ایرانی عوام اور مسلح افواج کا حق ہے: ابراہیم عزیزی

آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلہ صرف ایرانی عوام اور مسلح افواج کا حق ہے: ابراہیم عزیزی

ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے خودمختار پانیوں کا حصہ ہے اور اس سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صرف ایرانی عوام اور مسلح افواج کا حق ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ “آبنائے ہرمز نہ کسی کا ذاتی کیسینو ہے اور نہ ہی جدید قزاقوں کا بیک یارڈ”، بلکہ یہ ایران کے خودمختار پانی ہیں جن کے بارے میں حتمی فیصلہ صرف ایران کی قیادت اور مسلح افواج ہی کریں گی۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، جہاں مبینہ طور پر ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کرنے کے اعلانات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس پیش رفت کو علاقائی کشیدگی اور ممکنہ جنگی خطرات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

مزید رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی سے منسوب بیانات میں آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت پر پابندی اور جہازوں کو اس علاقے سے دور رہنے کی تنبیہ کا ذکر کیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب بیانات میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند کی گئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے، جبکہ ایران سے علاقائی پراکسی سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش یا اس حوالے سے کوئی بھی سخت اقدام عالمی توانائی منڈیوں اور خطے کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔