دبئی: امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی توقعات میں کمی کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز سے صرف 6 تجارتی جہاز گزرے، جبکہ گزشتہ 10 دنوں میں روزانہ تقریباً 11 جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے رہے تھے۔شپنگ کمپنی کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق، منگل کی صبح تک چار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے، جن میں سے دو خالی آئل پروڈکٹ ٹینکر تھے۔ دوسری جانب، صرف دو جہاز آبنائے ہرمز سے باہر نکلے، جن میں ایک چھوٹا ٹینکر مائع پٹرولیم گیس سے بھرا ہوا تھا اور دوسرا باقی ماندہ ایندھن لے جا رہا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی سے پہلے، آبنائے ہرمز دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک تھی، جہاں روزانہ تقریباً 130 سے 140 جہاز گزرتے تھے۔ یہ راستہ عالمی تیل اور گیس کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اسی کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
اس غیر معمولی کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز مالکان اور شپنگ کمپنیاں سکیورٹی خدشات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں، شپنگ اخراجات اور توانائی کی سپلائی پر پڑ سکتے ہیں۔مزید برآں، جہازوں کی کم آمدورفت سے انشورنس اخراجات میں اضافہ اور بحری نقل و حمل میں تاخیر کا خدشہ ہے، جو عالمی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی کا انحصار امریکا، ایران، اور عمان کے درمیان جاری سفارتی کوششوں اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر ہوگا۔