پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے تیراہ میں جاری آپریشن اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بے دخلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ شدید سردی کے موسم میں تیراہ کے عوام کو اپنے گھروں سے بے گھر کیا جا رہا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر آپریشن مکمل کرے اور متاثرہ خاندانوں کو مزید مشکلات سے بچائے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ تیراہ میں جاری آپریشن کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں، جبکہ گزشتہ آپریشن کے دوران متاثرین کو چار لاکھ روپے فی خاندان امداد دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن افسوس کہ آج تک وہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے ماضی میں پرامن تھے، مگر مسلسل آپریشنز کی وجہ سے وہاں کے حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔ ایسی شدید سردی میں لوگوں کو بے گھر کرنا ظلم کے مترادف ہے، اور جماعت اسلامی تیراہ کے متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقے کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور محض بیانات دے کر ذمہ داری سے جان نہ چھڑائیں۔ حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ آپریشن عوام کی مرضی کے بغیر ہو رہا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپریشن سے متاثرہ افراد کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے اور ان کی فوری بحالی اور مالی امداد کو یقینی بنائے۔
افغانستان سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایک دوسرے کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان لڑائی سے صرف دشمن خوش ہوتے ہیں، خصوصاً بھارت کو اس صورتحال سے فائدہ پہنچتا ہے۔ حافظ نعیم نے افغان سرزمین میں پھنسے طلبہ کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ کشیدگی کی وجہ سے تجارت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔مقامی حکومتوں کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں بااختیار اور مضبوط بلدیاتی نظام ہونا چاہیے۔ مقامی حکومتوں کو توسیع دینے کے بجائے انہیں مؤثر اور فعال بنایا جائے، مگر بدقسمتی سے کوئی سیاسی جماعت بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنے کی سنجیدہ بات نہیں کرتی۔
کراچی کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ گزشتہ 17 سال سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور اس دوران کراچی کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے اور کراچی کی بات کرنا دراصل پورے پاکستان کی بات کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا میئر جماعت اسلامی کا تھا، جسے چھین لیا گیا، جبکہ مختلف سانحات پر حکمرانوں نے بے حسی کا مظاہرہ کیا۔آخر میں امیر جماعت اسلامی نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے بحران پر سخت تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگی بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ رمضان المبارک کے بعد جماعت اسلامی ایک بار پھر سڑکوں پر آئے گی اور اب محض معاہدوں اور وعدوں پر اعتبار نہیں کیا جائے گا۔