پیٹرول کی قیمت کم ہو جائے گی تو عوام کا جینا بھی آسان ہو جائے گا: حافظ نعیم الرحمٰن

پیٹرول کی قیمت کم ہو جائے گی تو عوام کا جینا بھی آسان ہو جائے گا: حافظ نعیم الرحمٰن

کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا، تاہم اس کا مینڈیٹ چوری کرکے شہر پر قبضہ میئر مسلط کر دیا گیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں ترقیاتی کام جاری ہیں، جبکہ میئر کی جانب سے اختیارات روکے جانے کے باوجود ٹاؤن چیئرمین کام کر رہے ہیں۔کراچی کے علاقے گودھرا کالونی میں ماڈل اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین دستیاب اختیارات سے بڑھ کر عوامی خدمت میں مصروف ہیں، لیکن شہر کے میئر نے اختیارات روک رکھے ہیں، جس کے باعث شہری مسائل کے حل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی حقوق کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی ہے اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف بھی آواز اٹھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ افراد موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں، اس لیے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی سے عام شہریوں کو ریلیف مل سکتا ہے اور ان کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا آسان ہو سکتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے ملک میں گندم کے بحران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس کے باوجود گندم کے شعبے کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان کے بقول، پہلے گندم کا بحران پیدا ہوتا ہے اور پھر اسے درآمد کیا جاتا ہے، جس سے متعلقہ معاملات پر سوالات جنم لیتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے گیس لوڈشیڈنگ کے باعث گھریلو صارفین، خصوصاً خواتین کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے معاملے کو کیوں نظر انداز کر رہی ہے، جبکہ ملک کی معاشی صورت حال سب کے سامنے ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل اور معاشی مشکلات کے خلاف لانگ مارچ کی تیاری کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اسلام آباد جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کے لیے زندگی مشکل بنا دی ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں 10 کلو آٹا 2 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جو عام شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ہے۔انہوں نے صوبائی حکومت پر زمینوں پر قبضوں کی سرپرستی کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ شہریوں کے بنیادی مسائل حل کرنے اور انہیں معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔