لاہور میں دوسرے روز بھی موسلا دھار بارش‘خیبرپختونخوا‘آزاد کشمیر میں سیلاب‘سڑکیں بہہ گئیں

لاہور میںسڑکیں کئی گھنٹے پانی میں ڈوبی رہیں‘گوجرانوالہ‘ ڈسکہ ‘حافظ آباد‘بھیرہ ‘ کلرکہار ‘ڈیرہ غازی خان میں بھی بارش‘ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا
پاکپتن میں بارش سے گھر کی چھت گر گئی، 2 بچے جاں بحق، والدہ زخمی‘منڈی بہاولدین میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے 6 افراد زخمی‘مزید بارشوں کا امکان
لاہور،پشاور(سپیشل رپورٹر‘آئی  این پی ) ملک کے بالائی حصوں بالخصوص خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور ہزارہ ڈویژن میں موسلا دھار بارشوں اور سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی  ، ندی نالوں میں طغیانی آگئی ، نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا،سٹرکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کرتی رہیں‘ لاہور میں دوسرے روز بھی موسلا دھار بارش ہوئی جس کے باعث نشیبی علاقے زیرآب آگئے اور سڑکیں کئی گھنٹے  پانی میں ڈوبی رہیں جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا‘گوجرانوالہ میں تیزبارش کے باعث جی ٹی روڈ،سیالکوٹ روڈ اور گوندلانوالہ روڈ سمیت متعددشاہراہوں اور نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہوگیا، ڈسکہ میں بھی تیزبارش  سے موسم خوشگوار ہوگیا ۔حافظ آباداورگردونواح میں مسلسل موسلادھاربارش کے باعث سڑکیں،گلیاں اور محلے پانی میں ڈوب گئے۔بھیرہ اورگردونواح میں موسلادھار بارش کیباعث متعدد نشیبی علاقے زیرِآب آگئے،جبکہ کلرکہار میں ہلکی اورتیز بارش کے سلسلے نے گرمی کا زور توڑ دیا،کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔ڈیرہ غازی خان میں آندھی اور بارش سے جہاں موسم خوشگوار ہوا وہیں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔منڈی بہائوالدین میں بارش کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے سے تین مختلف حادثات میں 6 افراد زخمی ہو گئے ہیں‘پاکپتن میں بارش کے باعث 33 ایس پی کے علاقے میں گھر کی چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق جبکہ ان کی والدہ شدید زخمی ہو گئیں۔ریسکیو حکام کے مطابق چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 7 سالہ عثمان اور 9 سالہ نور فاطمہ جان کی بازی ہار گئے۔