جنگِ عظیم دوم کے دوران ڈوبا جاپانی جنگی جہاز 83 سال بعد بحرالکاہل سے دریافت

جنگِ عظیم دوم کے دوران ڈوبا جاپانی جنگی جہاز 83 سال بعد بحرالکاہل سے دریافت

جنگِ عظیم دوم کے دوران تباہ ہونے والا جاپانی بحری جنگی جہاز ٹیروزوکی (Teruzuki) 83 سال بعد بحرالکاہل کی گہرائیوں سے دریافت کر لیا گیا ہے۔

یہ ڈسٹرائر 1942ء میں اس وقت ڈوبا جب وہ سولومن آئی لینڈز کے قریب فوجی ساز و سامان پہنچانے کے مشن پر تھا۔ 134 میٹر طویل ٹیروزوکی، جاپانی نیوی کا دوسرا اکیزوکی کلاس ڈسٹرائر تھا، جو اس وقت کی جدید ٹیکنالوجی، بشمول ایئر سرچ ریڈار، سے لیس تھا۔دسمبر 1942 میں ایک امریکی ٹارپیڈو حملے کے نتیجے میں یہ جہاز تباہ ہوا۔ ٹارپیڈو سے ہونے والے دھماکے نے جہاز کا رڈر اور پروپیلر کی ایک شافٹ تباہ کر دی، جس کے باعث جہاز مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا۔ بعد ازاں، ایندھن کے ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی جس نے جہاز کے اسلحہ خانے کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے نتیجے میں ایک شدید دھماکہ ہوا اور جہاز مکمل طور پر سمندر برد ہو گیا۔یہ دریافت تاریخ کے ایک اہم باب کو اجاگر کرتی ہے اور اس جہاز میں موجود عملے کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔ بحری ماہرین کے مطابق یہ دریافت سمندری جنگی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی۔