49 جہاز ڈبو کر تباہ ہونے والی جنگِ عظیم کی آبدوز بیلجیئم کے سمندر سے برآمد

49 جہاز ڈبو کر تباہ ہونے والی جنگِ عظیم کی آبدوز بیلجیئم کے سمندر سے برآمد

بیلجیئم کے سمندری ماہرین نے پہلی جنگِ عظیم (WWI) کی ایک مشہور جرمن آبدوز UB-57 کا ڈھانچہ دریافت کر لیا ہے، جس نے جنگ کے دوران 49 بحری جہاز ڈبوئے تھے۔

 یہ آبدوز اپنے وقت کی ایک خوفناک جنگی مشین تھی، جس کا ملبہ بحیرۂ شمالی میں بیلجیئم کی سمندری حدود میں محفوظ حالت میں ملا ہے۔

اہم تفصیلات:
آبدوز کی شناخت کیسے ہوئی؟

سمندری آثارِ قدیمہ کے ماہر ٹامس ٹرموٹ کے مطابق، UB-57 کا ملبہ تقریباً مکمل طور پر ریت میں دبا ہوا تھا۔اس کی شناخت پروپیلرز پر کندہ جرمن تحریروں سے کی گئی، جو ریت سے 4-5 میٹر نیچے موجود تھے۔
ڈریجنگ کمپنی DEME کی مدد سے ریت ہٹائی گئی، جس کے بعد آبدوز کی تصدیق ہوئی۔
UB-57 کی جنگِ عظیم میں کیا کارروائیاں تھیں؟

یہ آبدوز 55 میٹر لمبی تھی اور بھاری ہتھیاروں سے لیس تھی۔اس نے 1917-1918 کے دوران 49 بحری جہاز ڈبوئے، جن میں زیادہ تر برطانوی تجارتی و جنگی بحری جہاز شامل تھے۔3 اگست 1918 کو اپنے آخری مشن پر روانہ ہوئی اور 14 اگست 1918 کو اس نے آخری ریڈیو سگنل بھیجا، جس میں 3 مزید جہازوں کے ڈوبنے کی اطلاع دی گئی۔
آبدوز کا انجام کیسے ہوا؟

جرمن ریکارڈز کے مطابق، UB-57 بحیرۂ شمالی میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گئی۔اس میں موجود 29 عملے کے ارکان سمیت سب ہلاک ہو گئے۔یہ آبدوز بیلجیئم کے ساحلی شہر Ostend اور Zeebrugge کے قریب ڈوبی، جو جرمنی کے لیے اہم جنگی اڈے تھے۔
بیلجیئم میں جنگِ عظیم کے دیگر ملبے

بیلجیئم کے پانیوں میں WWI کی 11 جرمن آبدوزوں کے ملبے موجود ہیں، جن میں سے UB-57 آخری شناخت شدہ آبدوز ہے۔یہ دریافت سمندری تاریخ اور جنگِ عظیم کی تحقیق کے لیے اہم ہے۔
کیا UB-57 کو بحال کیا جائے گا؟
چونکہ آبدوز ایک قبرستان کی حیثیت رکھتی ہے (29 افراد کی لاشیں موجود ہیں)، اس لیے اسے سمندر سے نہیں نکالا جائے گا۔بیلجیئم کی حکومت اسے تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
یہ دریافت جنگی تاریخ کے ایک اہم باب کو روشن کرتی ہے اور UB-57 جیسی مہلک آبدوزوں کی جنگی مہمات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔