بحرالکاہل میں تین دن تک طوفان میں پھنسے مہم جو کو آسٹریلوی جنگی جہاز نے بچا لیا

بحرالکاہل میں تین دن تک طوفان میں پھنسے مہم جو کو آسٹریلوی جنگی جہاز نے بچا لیا

سڈنی: آسٹریلیا کی بحریہ کے جنگی جہاز HMAS Choules نے لیتھُوینیا کے مہم جو آریمَس موکُس کو بحفاظت ریسکیو کر لیا، جو بحرالکاہل میں اپنی کشتی کے ساتھ تین دن تک خوفناک سمندری طوفان میں پھنسے رہے۔

44 سالہ آریمَس موکُس امریکی شہر سان ڈیاگو سے آسٹریلیا کے برسبین تک 7,500 میل کا طویل سمندری سفر کر رہے تھے، جب وہ خطرناک سائیکلون الفریڈ کی زد میں آگئے۔ طاقتور ہواؤں اور شدید لہروں نے ان کی کشتی کو بری طرح نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں وہ کوئنز لینڈ کے مشرق میں تقریباً 460 میل دور بے یار و مددگار رہ گئے۔

ایمرجنسی الرٹ اور فوری ریسکیو آپریشن
جب 50 میل فی گھنٹہ کی تیز ہواؤں نے صورتحال مزید خراب کر دی، تو موکُس نے اپنی ایمرجنسی بیکن فعال کر دی، جس کے بعد آسٹریلوی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی نے فوری طور پر ریسکیو مشن شروع کیا۔ایک طیارہ روانہ کیا گیا، جس نے ہفتے کے روز موکُس کا پہلا سراغ لگایا۔ریسکیو ٹیم کے مطابق، وہ شدید جسمانی کمزوری کا شکار ہو چکے تھے، لیکن ان کا حوصلہ بلند تھا۔
ان کی کشتی بری طرح تباہ ہو چکی تھی، اور صرف دو چپو اور چند ذاتی اشیاء ہی بچائی جا سکیں۔
بحری جہاز پر محفوظ منتقلی
آسٹریلوی جنگی جہاز HMAS Choules کو ریسکیو مشن پر بھیجا گیا، جس نے موکُس کو بحفاظت بحری جہاز پر منتقل کیا۔ اب انہیں سڈنی لے جایا جا رہا ہے، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔

ادھورا خواب، مگر حوصلہ برقرار
موکُس نے اکتوبر میں یہ تاریخی مہم شروع کی تھی اور وہ ان چند افراد میں شامل ہونا چاہتے تھے جو اکیلے بحرالکاہل عبور کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ حالانکہ طوفان نے ان کا خواب ادھورا چھوڑ دیا، لیکن ان کی ہمت، عزم اور بہادری نے انہیں عالمی مہم جوؤں میں نمایاں مقام دلا دیا ہے۔