واشنگٹن / ٹوکیو:دوسری جنگ عظیم کے دوران بحر الکاہل میں گرنے والے امریکی بمبار طیارے بی-24 لبریٹر کے عملے کے 4 ارکان کی لاشیں 80 سال بعد سمندر کی تہہ سے نکال لی گئیں اور ڈی این اے شناخت کے بعد انہیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب 1944ء میں امریکی آرمی ایئر فورس کا بمبار طیارہ، جس کا نام "ہیون کین ویٹ" (Heaven Can Wait) تھا، نیو گنی کے جزیرے سے روانہ ہوا اور کچھ ہی دیر بعد جاپانی افواج کی طیارہ شکن توپوں کا نشانہ بن کر 11 عملے کے ارکان سمیت سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔جنگ کے اختتام کے بعد طیارے اور اس کے عملے کو لاپتہ قرار دیا گیا اور عشروں تک وہ افراد فضائی جنگ کے گم شدہ ہیروز کے طور پر یاد کیے جاتے رہے۔تاہم 2017ء میں پراجیکٹ ریکور (Project Recover) نامی ایک ادارے نے بحر الکاہل کی تہہ میں تقریباً 200 فٹ گہرائی سے بی-24 لبریٹر طیارے کا ملبہ دریافت کر لیا۔ اس مہم میں جدید سونار، آبدوز کیمروں اور نقشہ سازی کی تکنیک استعمال کی گئی۔
اس کے بعد امریکی بحریہ کے ماہر غوطہ خوروں نے طیارے کے ملبے تک رسائی حاصل کی اور 4 اہلکاروں کی انسانی باقیات نکال لیں۔ ان باقیات کی ڈی این اے تجزیہ کے ذریعے شناخت کی گئی اور ان کے ورثا کو اطلاع دے کر تدفین کے لیے واپس وطن پہنچایا گیا۔امریکی محکمہ دفاع کے مطابق باقی لاپتہ اہلکاروں کی تلاش کا عمل بھی جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 80 سال بعد بھی باقیات کا اس قدر محفوظ ہونا ایک حیران کن امر ہے اور یہ جدید سائنسی ٹیکنالوجی اور تحقیقاتی اداروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔امریکی فوجی حکام اور پراجیکٹ ریکور کے نمائندوں نے کہا ہے کہ یہ ایک قومی فرض ہے کہ جنگ میں گم ہونے والے ہر فوجی کو ڈھونڈ کر باعزت طریقے سے ان کے خاندانوں تک پہنچایا جائے۔