پالتو شیرنی کا حملہ،8سالہ بچی لہولہان

رکشے سے اتارتے شیرنی نے بچی پر حملہ کیا ، سر، کان اور ٹانگ پر گہرے زخم آئے۔ پولیس نے ملزم پکڑ لئے 
لاہور(کرائم رپورٹر)اقبال ٹائون کے علاقے بھیکے وال پنڈ میں پالتو شیرنی کے حملے کے نتیجے میں آٹھ سالہ کمسن بچی شدید زخمی ہو گئی واقعے میں بچی کے سر، کان اور ٹانگ پر گہرے زخم آئے جسے فوری طور پر شیخ زید ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ترجمان پولیس کے مطابق واقعہ بھیکے وال پنڈ کی کچی آبادی میں پیش آیاجہاں بلاول اور شجاعت نامی افراد رکشے سے پالتو شیرنی اتار رہے تھے کہ اسی دوران شیرنی نے اچانک قریب موجود بچی پر حملہ کر دیا۔واقعے کا ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سخت نوٹس لیتے ہوئے پالتو شیرنی رکھنے والے مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ پولیس موقع پر پہنچ گئی جبکہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی شیر کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا۔ بچی کی والدہ ماریہ کے مطابق اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو سے تین افراد ایک شیرنی کو ساتھ لے کر وہاں آئے۔ اچانک شیرنی نے رابعہ پر حملہ کر دیا اور اس کا کان اپنے منہ میں دبا لیا۔ماریہ کا کہنا ہے کہ شیرنی کے ساتھ موجود افراد نے بڑی مشکل سے بچی کو اس کے چنگل سے چھڑوایا، جس کے بعد رابعہ کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بچی کو زخمی کرنے والی شیرنی اور اس کے مالکان کو گرفتار کر لیاترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ایس پی اقبال ٹائون ڈاکٹر عمر کی سربراہی میں خصوصی کارروائی کی گئی۔ واقعے کے بعد ملزمان جائے وقوعہ بھیکیوال سے شیرنی کو لے کر فرار ہو گئے تھے، تاہم پولیس نے بروقت ایکشن لیتے ہوئے نواں کوٹ کے علاقے سے شیرنی اور ملزمان کو گرفتار کر لیا ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر ایس پی اقبال ٹائون نے آپریشن کی قیادت کی اور تین گھنٹوں کے اندر ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان کے پاس شیر رکھنے کا کوئی قانونی لائسنس موجود نہیں تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ شیرنی کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ بروقت اور مو?ثر کارروائی پر ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی اقبال ٹائون اور ان کی ٹیم کو شاباش دی ہے۔