کراچی کے علاقے میں واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 60 ہو گئی ہے، جبکہ ریسکیو اور سرچ آپریشن چھٹے روز بھی مسلسل جاری ہے۔
حکام نے سانحے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے لاشوں کے سیمپلز کا کیمیکل ایگزامینیشن کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 14 جاں بحق افراد کی شناخت کر لی گئی ہے، جن میں سے 8 کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہو سکی۔ ریسکیو ٹیمیں اب تک 48 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل کر چکی ہیں، جبکہ واقعے میں 86 افراد کے لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے جس حصے میں شدید آگ کے بعد ڈھانچہ منہدم ہوا، وہاں مزید لاشیں موجود ہونے کا خدشہ ہے، اسی لیے سرچ آپریشن رات گئے تک جاری رکھا گیا۔ادھر سانحے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ آگ لگنے کی اصل وجہ اور عمارت میں موجود حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ریسکیو ادارے، پولیس اور دیگر متعلقہ محکمے موقع پر موجود رہتے ہوئے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔دوسری جانب گل پلازہ اور ڈی سی ساؤتھ آفس میں نصب کیمروں کے خراب ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر میئر کراچی کی ہدایت پر کیمروں کی فوری مرمت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو اور سرچ آپریشن کے دوران گل پلازہ کے ملبے سے نقدی نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق سرچنگ کے دوران ملنے والی بھاری رقم متعلقہ اداروں کے حوالے کر دی گئی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک دکاندار نے بتایا کہ مختلف دکانوں میں موجود لوہے کی درازوں اور لاکرز سے رقوم برآمد ہو رہی ہیں، جبکہ مبینہ طور پر رقم لے کر فرار ہونے کی کوشش میں ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ڈی سی ساؤتھ جاوید کھوسو نے کہا کہ متاثرین کی ایک ایک چیز امانت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کا ملبہ لے کر جانے والے دو ڈمپر غائب ہوئے تھے، تاہم انہیں جلد تلاش کر لیا جائے گا، جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے دو ڈمپروں کے غائب ہونے کی خبر کی تردید کر دی ہے۔