پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران 190 ملین پاؤنڈ کی رقم سے متعلق تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس پیسے کو چوری کا پیسہ ثابت کرنے کے لیے عدالتی فیصلہ ضروری ہے۔
علی ظفر نے وضاحت کی کہ اس معاملے میں کوئی عدالت یہ نہیں کہہ سکی کہ یہ پیسہ جرم کی کمائی ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانوی ادارہ نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے اس رقم کو 2018 میں منجمد کیا تھا، اور اس کے بعد 6 نومبر 2019 کو ایک سیٹلمنٹ کے نتیجے میں یہ پیسہ ڈی فریز کر دیا گیا۔ بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ اس پیسے کی منجمدی اور بعد میں ڈی فریز ہونے کے دوران نیب کی جانب سے یہ موقف اپنایا گیا کہ یہ پیسہ بانی پی ٹی آئی کی کابینہ کے فیصلے سے آیا تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ پیسہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں اس وقت آیا تھا جب کابینہ کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔علی ظفر نے 26ویں آئینی ترمیم کے بارے میں بھی بات کی، جس کا فیصلہ سپریم کورٹ سے ہونے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک نیا کیس ہے اور اس میں مختلف قسم کی توقعات رکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ معاملہ ابھی تک ایک پیچیدہ اور غیر واضح صورت میں موجود ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے نیب پر بھی تنقید کی اور سوال کیا کہ حسن نواز، جو نواز شریف کے بیٹے ہیں، کے خلاف تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں، خاص طور پر ان کی پراپرٹی خریدنے کے ذرائع پر۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیب حسن نواز کے ذریعے ایک اہم معاملے کی تحقیقات کرے تاکہ معاملے کی حقیقت سامنے آ سکے۔پی ٹی آئی کے رہنما نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ سپریم کورٹ کے آئینی یا معمولی بینچ کے ذریعے کیا جائے گا، اور اس میں کوئی بھی نتیجہ آنا ممکن ہے۔