فلسطینی یونیورسٹی غزہ کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر سالم صباح نے کہا کہ غزہ کی تمام جامعات اور اسکول مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور اس وقت غزہ میں تعلیم کا نظام شدید بحران کا شکار ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کے روز اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کے ذیلی ادارے، اسٹینڈنگ کمیٹی فار سائنٹفک اینڈ ٹیکنالوجیکل کوآپریشن (کامسٹیک) کے تحت کنسورشین آف ایکسیلنس کے سالانہ اجلاس کی افتتاحی تقریب میں خطاب کے دوران کیا۔پروفیسر ڈاکٹر سالم صباح نے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں 14 ہزار بچوں کی شہادت کے ساتھ ساتھ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے اور اس وقت 10 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ فلسطینی بچوں کی تعلیم کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل ڈاکٹر اقبال چوہدری نے اپنے خطاب میں فلسطینی طلباء کے لیے 5000 اسکالرشپس فراہم کرنے کا اعلان کیا اور اس کی تعداد میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی طلباء کی تعلیم کی حمایت اور ان کے تعلیمی مواقع میں اضافہ کرنا ضروری ہے تاکہ ان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔اس موقع پر قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز نے بھی خطاب کیا اور شرکاء سے درخواست کی کہ وہ اپنی جامعات میں مظلوم فلسطینی طلباء کے لیے زیادہ سے زیادہ اسکالرشپ کے مواقع فراہم کریں۔اس تقریب کے دوران جب فلسطینی پروفیسر ڈاکٹر سالم صباح کو خطاب کے لیے مدعو کیا گیا، تو ہال میں موجود شرکاء نے ان کا کھڑے ہو کر استقبال کیا اور انہیں بھرپور داد دی۔ یہ لمحہ فلسطینی عوام کے لیے یکجہتی اور حمایت کا اظہار تھا۔