غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ شب کیے گئے ایک فضائی حملے میں کم از کم 10 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
غزہ کے ادارہ سول ڈیفنس کے مطابق، اسرائیلی طیاروں نے ایک ایسے اسکول کو نشانہ بنایا جو اس وقت بےگھر افراد کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔حکام کے مطابق یہ اسکول جنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے عارضی رہائش گاہ بنا ہوا تھا، جہاں سینکڑوں افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ حملے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں کیں اور ملبے تلے دبے متعدد افراد کو نکالا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے عام شہریوں، خاص طور پر عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے وقت اسکول میں افرا تفری کا عالم تھا اور چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، حالیہ حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور طبی سہولیات بھی شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کی جانوں کو بچایا جا سکے۔