عدلیہ سے درخواست ہے ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے وفاقی وزیرقانون

حکومت کسی ادارے کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتی، عدلیہ بھی ایگزیکٹو کے معاملات میں براہ راست مداخلت سے گریز کرے اور ایگزیکٹو کو اپنا کام کرنے دے
   پاکستان نے جرمنی کے ساتھ دہری شہریت کی منظوری دیدی‘ جرمن حکومت کی جانب سے ایم او یو دستخط کا انتظار ہے، پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد پاکستانی جرمن شہریت دوبارہ حاصل کر سکیں گے
اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے  حکومت کسی ادارے کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتی ، عدلیہ بھی ایگزیکٹو کے معاملات میں براہ راست مداخلت سے گریز کرے، عدلیہ سے درخواست ہے کہ ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے  منگل کوڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیر صدارت سینیٹ  اجلاس  میں  اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔  ڈیپوٹیشن پالیسی سے متعلق سینیٹر دنیش کمار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سوالات کمیٹیز کو بھیجنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تمام سوالات کے جوابات تحریری طور پر پیش کئے جاتے ہیں، کمیٹیوں میں دیگر معاملات بھی زیر بحث لائے جاتے ہیں۔ ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر سوال پر ضمنی سوالات بھی لینے چاہئیں۔ اور فارن افیئر کمیٹیوں کے پاس بہت سے معاملات زیرالتو ہوتے ہیں۔ ہمیں ہر سوال پر ایوان میں بحث کرنی چاہیے۔ سینیٹراعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ محکموں پر لازم ہے کہ حقیقی اعدداد و شمار کے ساتھ سامنے آئیں۔ اور عدلیہ ایگزیکٹوز کو اپنا کام کرنے دے۔ اداروں کو اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ اور عدلیہ سے درخواست ہے ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ کیونکہ قانون سازی کرنا ہمارا کام ہے اور وہ ہمیں کرنے دی جائے‘ پاکستان نے جرمنی کے ساتھ دہری شہریت کی منظوری دے دی، اب جرمن حکومت کی جانب سے ایم او یو دستخط کا انتظار ہے، پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد پاکستانی جرمن شہریت دوبارہ حاصل کر سکیں گے، پاکستان کے بائیس ملکوں کے ساتھ دہری شہریت کے معاہدے ہیں۔