پیپلز پارٹی پنجاب کے معاملات میں مداخلت بند کرے، عظمیٰ بخاری

مریم نواز کی مقبولیت سے خوفزدہ لوگ صوبائیت کارڈ کھیل رہے ہیں، مداخلت غیر آئینی، سندھ قیادت اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے، وزیر اطلاعات 
 لاہور(سپیشل رپورٹر) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے پنجاب مخالف بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی صوبے کے معاملات میں مداخلت کرنا غیر آئینی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ قیادت مسلسل پنجاب کے امور میں مداخلت کر کے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جو ہر بات پر ''مرسوں مرسوں'' کے نعرے لگاتے ہیں، وہ آج صوبائیت کا کارڈ کھیل کر قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، پیپلز پارٹی یا تو اپنے حواس کھو بیٹھی ہے یا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ دو ہفتے قبل میڈیا پر انہیں کوئی توجہ نہیں مل رہی تھی، اب وہ پنجاب کے کسانوں اور سیلاب متاثرین پر طنز کر کے خبروں میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی اپنی حکومت ہے، وہاں کسانوں سے گندم کیوں نہیں خریدی گئی؟ اس کا جواب قوم کو دیا جائے۔عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کے ایک مقامی لیڈر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں رہتے ہوئے سندھ کے وڈیروں کی غلامی کب تک کی جائے گی؟ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو اپنے پانی کے استعمال کے لیے کسی دوسرے صوبے سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ پنجاب کے وسائل پر پہلا حق پنجاب کے عوام کا ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے واضح کیا کہ مریم نواز کسانوں کو ان کے پانی کے حقوق ہر صورت دلائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز پنجاب کے عوام کے حقوق کی بات کرتی ہیں تو پیپلز پارٹی کو تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ سندھ میں سترہ سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت کے باوجود مسائل کے انبار لگے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پنجاب کے عوام یاد رکھیں گے کہ جب وہ مشکل میں تھے تو پیپلز پارٹی نے ان کی مشکلات کا مذاق اڑایا۔ عوام پیپلز پارٹی کے اس منفی رویے کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔