سعودی وزیرِ خارجہ کا دو ریاستی حل پر زور، فلسطین میں تعمیر نو کی فوری ضرورت پر تاکید

سعودی وزیرِ خارجہ کا دو ریاستی حل پر زور، فلسطین میں تعمیر نو کی فوری ضرورت پر تاکید

ریاض: سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے فلسطین-اسرائیل تنازعے کے دو ریاستی حل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہی واحد راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ میں پائیدار استحکام لا سکتا ہے۔

یہ بیان انہوں نے جنوبی افریقہ میں ہونے والے جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران دیا، جہاں عالمی تنازعات اور عالمی معیشت سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

فلسطین میں تباہی اور تعمیر نو کی ضرورت
شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں تباہی اور نقل مکانی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے سبب بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، اور فلسطینی عوام کو فوری مدد فراہم کرنے کے لیے درست اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ میں متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کرے اور تعمیر نو کے عمل میں مدد فراہم کرے۔

دو ریاستی حل پر اصرار
سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ خطے میں مستقل قیام امن اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کو یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی حل کا نفاذ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک منصفانہ حل تلاش کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام اور امن قائم ہو سکے۔

دیگر علاقائی امور
شہزادہ فیصل بن فرحان نے مشرق وسطیٰ کے دیگر مسائل پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے لبنان میں جلد از جلد نئے صدر کے انتخاب کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کو ایک مستحکم سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو ملک کو بحران سے نکال سکے۔شام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں استحکام اور ترقی کے لیے بین الاقوامی برادری کو تعمیری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے عالمی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ شام پر عائد پابندیوں کو ختم کیا جائے اور تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ وہاں انسانی بحران کو کم کیا جا سکے۔

عالمی ردعمل
سعودی وزیرِ خارجہ کے اس بیان کو عالمی سطح پر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ کے استحکام میں سعودی عرب کا کردار نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ دو ریاستی حل کے حوالے سے سعودی عرب کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک منصفانہ اور پائیدار معاہدہ ہی امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔