وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقد ہونے والے ڈی ایٹ ممالک کے 11ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کئی اہم موضوعات پر بات کی، جن میں غزہ میں جنگ بندی کی فوری ضرورت، نوجوانوں کو بااختیار بنانا، اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی ترقی شامل ہیں۔
غزہ میں جنگ بندی پر زور
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے غزہ میں جاری جنگ کے فوری خاتمے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی خطے اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ شہباز شریف نے زور دیا کہ عالمی برادری کو امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
نوجوانوں اور ایس ایم ایز کی اہمیت
شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) معیشت کی ترقی کا اہم محرک ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور کہا کہ نوجوان تخلیقی صلاحیتوں، توانائی، اور نئے خیالات سے بھرپور ہیں۔ ایس ایم ایز ملازمتوں کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور مقامی کاروبار کو فروغ دیتے ہیں۔
پاکستان کی نوجوان آبادی اور حکومتی اقدامات
وزیرِ اعظم نے ذکر کیا کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یوتھ پروگرام کے تحت کامیابیاں:
لیپ ٹاپ اسکیم: 2013ء سے اب تک 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپس تقسیم کیے گئے ہیں۔
اسکالرشپ پروگرام: ہزاروں طلباء کو اسکالرشپس دی گئیں۔
فنی تربیت: لاکھوں نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، اور سائبر سیکیورٹی میں مہارت فراہم کی گئی ہے۔
پاکستان کی فری لانسر کمیونٹی
شہباز شریف نے کہا کہ ان اقدامات کی بدولت پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فری لانسر کمیونٹیز میں سے ایک بن چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈی ایٹ ممالک کو نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنا چاہیے۔
سربراہی اجلاس کے موضوع کی تعریف
انہوں نے اجلاس کے موضوع کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ 21ویں صدی میں اجتماعی خوشحالی کا واضح خاکہ پیش کرتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔یہ خطاب عالمی مسائل اور ملکی ترقی کے لیے شہباز شریف کے وژن کو اجاگر کرتا ہے۔