پاکستانی شوبز انڈسٹری کی مشہور جوڑی، کبریٰ خان اور گوہر رشید، کی شادی کی تقریبات کا آغاز سال 2025 کے آغاز سے ہی خبروں میں رہا۔
دونوں کے درمیان دوستی کی خبریں تو پہلے ہی گردش میں تھیں، مگر رواں سال کے آغاز سے ان کی شادی کی افواہیں بھی زور پکڑنے لگیں۔ آخرکار، 6 جنوری کو دونوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرکے شادی کا باضابطہ اعلان کر دیا، لیکن تاریخ ظاہر نہیں کی گئی۔
نکاح خانۂ کعبہ کے بیرونی احاطے میں
شادی کی تقریبات کا آغاز ڈھولکی، گیم نائٹ اور پری ویڈنگ پکنک پارٹی سے ہوا، جس کے بعد کبریٰ خان اور گوہر رشید اپنے اہل خانہ اور قریبی دوستوں کے ہمراہ مکہ روانہ ہو گئے۔ 12 فروری کو دونوں نے خانۂ کعبہ کے بیرونی احاطے میں نکاح کیا، جو ان کے مداحوں کے لیے ایک خوشگوار حیرت تھی۔ نکاح کے فوراً بعد دونوں نے عمرہ بھی ادا کیا، جس پر سوشل میڈیا پر انہیں خوب دعائیں اور مبارکبادیں دی گئیں۔
کراچی میں شادی کی تقریبات اور شیندی کی تقریب
مکہ مکرمہ سے واپسی کے بعد 19 فروری کو کراچی میں مایوں کی تقریب منعقد ہوئی، جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں۔ اگلے دن، 20 فروری کو شیندی (شادی اور ولیمے کی مشترکہ تقریب) کا اہتمام کیا گیا، جس میں شوبز انڈسٹری کے کئی نامور ستارے شریک ہوئے۔ تاہم، اس تقریب کی ویڈیوز منظر عام پر آتے ہی تنقید کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔
شیندی میں ڈانس: سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
شیندی کی تقریب میں کبریٰ خان اور گوہر رشید نے مختلف بھارتی گانوں پر رقص کیا، جن میں:
’سائلرو سائلرے‘ (فلم: جواں)
’تتڑ تتڑ‘ (فلم: رام لیلا)
’فولوری بنا چٹنی کیسے بنی‘ (فلم: ایکٹر ان لا)
ان گانوں پر ان کے ڈانس نے سوشل میڈیا صارفین کی ناراضگی کو ہوا دی۔ صارفین نے اعتراض کیا کہ جو جوڑا چند روز پہلے ہی خانۂ کعبہ کے قریب نکاح اور عمرہ ادا کر چکا ہے، وہ شادی میں ناچ گانے کی محفل کیسے سجا سکتا ہے؟
سوشل میڈیا پر تنقید بھری آراء
مداحوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا، تاہم تنقیدی تبصرے زیادہ نمایاں رہے:
ایک صارف نے لکھا: "یا تو کراچی میں ہی ناچ گانے کے ساتھ نکاح بھی کر لیتے، اگر مقدس مقام پر نکاح کیا تھا تو کم از کم شادی میں بھی سادگی اختیار کرتے۔"
دوسرے صارف نے کہا: "عمرہ کر لینے کے بعد کم از کم کچھ دن تو ایسی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے تھا۔"
ایک خاتون صارف نے تبصرہ کیا: "ان کا نکاح دیکھ کر رشک آ رہا تھا، لیکن اب ان کی شیندی کی ویڈیوز دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کر رہی ہوں کہ اس نے ہمیں بے حیائی سے بچایا۔"
کبریٰ خان اور گوہر رشید کا ردعمل؟
تاحال کبریٰ خان اور گوہر رشید نے اس تنقید پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔ البتہ، ان کے قریبی ذرائع کے مطابق جوڑا اس معاملے پر زیادہ گفتگو سے گریز کر رہا ہے اور اپنی نجی زندگی کو تنازعات سے دور رکھنا چاہتا ہے۔
نتیجہ
یہ پہلا موقع نہیں جب کسی مشہور شخصیت کو اپنی شادی یا تقریبات کے بعد تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ پاکستانی عوام خاص طور پر ایسے مواقع پر مذہبی اور ثقافتی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے رائے دیتے ہیں۔ کچھ مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی ذاتی زندگی ہے اور انہیں اپنی خوشی کا اظہار کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، جبکہ دیگر افراد کے نزدیک خانۂ کعبہ کے قریب نکاح کے بعد ایسی سرگرمیاں غیر مناسب ہیں۔آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا مشہور شخصیات کو اپنی تقریبات میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے، یا یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے؟