کبریٰ خان اور گوہر رشید کے حرم میں بوسے پر انجینئر مرزا برہم، ویڈیو وائرل

کبریٰ خان اور گوہر رشید کے حرم میں بوسے پر انجینئر مرزا برہم، ویڈیو وائرل

ویب ڈیسک: معروف پاکستانی اداکارہ کبریٰ خان اور اداکار گوہر رشید کے مسجد الحرام کے بیرونی احاطے میں نکاح کے دوران بوسے پر معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا نے سخت تنقید کی ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

گوہر رشید اور کبریٰ خان نے اپنی شادی کا باقاعدہ اعلان 25 جنوری کو کیا تھا، اور شادی کی تقریبات کا آغاز اس کے بعد ہوا۔ جوڑے نے مکّہ مکرمہ میں نکاح کیا اور بعد ازاں ایک ساتھ عمرہ بھی ادا کیا۔انہوں نے 12 فروری کو نکاح کیا اور اس کا اعلان 14 فروری کی شب کرتے ہوئے تصاویر بھی فینز کے ساتھ شیئر کیں۔اس کے بعد اس یادگار دن کی ویڈیو بھی شیئر کی گئی جس میں دونوں کو خانۂ کعبہ کے بیرونی احاطے میں اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ ایجاب و قبول کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس موقع پر گوہر رشید نے نکاح کے بعد اپنی اہلیہ کبریٰ خان کے ماتھے پر بوسہ لیا۔ یہ منظر دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف صارفین نے اس عمل پر تنقید کی اور اسے مقدس مقام کے آداب کے خلاف قرار دیا۔اس معاملے پر معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے شو میں مختلف سوالات کے جوابات دیے۔ شو کے دوران ایک کال میں خاتون نے سوال کیا کہ مولوی لوگ اسلام کے نام پر بہت ڈراتے ہیں، اور اداکار گوہر رشید کی جانب سے نکاح کے بعد حرم میں اپنی اہلیہ کی پیشانی پر بوسہ دینے پر تنقید کی گئی ہے، کیا یہ درست تھا یا نہیں؟ خاتون کا کہنا تھا کہ اسلام تو ایک نرم مذہب ہے، پھر کیوں اتنا ڈرایا جاتا ہے؟اس سوال کے جواب میں انجینئر محمد علی مرزا نے گوہر رشید اور کبریٰ خان کے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد الحرام میں اہلیہ کی پیشانی چومنا درست عمل نہیں ہے۔

 انہوں نے کہا کہ مولانا حضرات ڈرا نہیں رہے، ان کا اعتراض بالکل درست ہے۔ شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہیے، لیکن یہ محبت عوامی طور پر ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انجینئر محمد علی مرزا نے مزید کہا کہ اگر یہ عمل درست سمجھا جائے تو پھر اس کی حد کہاں تک جائے گی؟ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک جوڑا صرف ماتھے پر بوسہ دے سکتا ہے تو کیا ایک دوسرا جوڑا گلے لگائے گا، اور پھر کوئی تیسرا جوڑا اس سے بھی آگے بڑھ جائے گا؟ اس لیے یہ بات ضروری ہے کہ حدود کا تعین کیا جائے۔انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اس عمل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عورت کے پردے پر زور دیا ہے اور کہیں بھی کسی عورت کا نام نہیں لیا گیا، بلکہ جہاں ذکر آیا، وہ بھی مرد کی نسبت سے تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت پردے کی چیز ہے۔انہوں نے یہ بھی وضاحت دی کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ میاں بیوی کے درمیان قربت نہیں ہونی چاہیے، لیکن یہ قربت عوام کے سامنے نہیں دکھانی چاہیے۔