وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ہنگو میں اسٹریٹ موومنٹ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 27 تاریخ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہوگا، جس میں اب 40 لاکھ لوگ شریک ہوں گے، جبکہ پہلے یہ تعداد 20 لاکھ تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ مارچ ایک بڑے عوامی مظاہرے کے طور پر ہوگا اور اس کا مقصد حکومت کو تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔سہیل آفریدی نے اپنی تقریر میں موجودہ سیاسی صورتحال پر سخت تنقید کی اور کہا کہ عمران خان کے علاج سے متعلق تین ججز کے فیصلے کو حکومت اور انتظامیہ نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدالتیں اور ادارے طاقتور اور "ان ٹچیبل" افراد کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں، جبکہ قانون اور آئین کی بالادستی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں اگر طاقتور کو کٹہرے میں نہیں لا سکتیں، تو پھر کمزور لوگوں کو بھی آزاد کر دینا چاہیے کیونکہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان کی قیادت میں شروع کی گئی حقیقی آزادی کی جدوجہد کا مقصد کمزور اور طاقتور کے لیے ایک قانون کا نفاذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسان اور صنعتکار پریشان ہیں اور سرمایہ ملک سے باہر منتقل ہو رہا ہے، اس لیے عدلیہ کو سوچنا ہوگا کہ ملک کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے آواز بلند کریں اور ملک کی سمت کا فیصلہ کریں۔اس کے علاوہ، سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے خواتین پر ظلم و جبر کی بھی مذمت کی اور عمران خان کی بہنوں کی بے توقیری پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ان کا عشق جنون کی حد تک ہے اور وہ خان کی بہنوں کے ایک ایک آنسو کی قیمت چکانے کے لیے تیار ہیں۔یہ بیان سیاسی اور عوامی سطح پر تحریک کے حوالے سے ایک اہم پیغام ہے، جس میں حکومت، عدلیہ، اور عوام کے کردار پر زور دیا گیا ہے۔