سعودی فضائی دفاعی نظام حوثی میزائل روکنے میں ناکام کیوں رہا؟ تحقیقات شروع

سعودی فضائی دفاعی نظام حوثی میزائل روکنے میں ناکام کیوں رہا؟ تحقیقات شروع

سعودی عرب میں حوثی تحریک کے حملوں کے بعد ملک کے فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں میزائلوں کے بار بار فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق سعودی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میزائلوں کو روکنے میں ناکامی کیوں ہوئی، حالانکہ سعودی عرب اپنے دفاعی نظام پر بھاری رقم خرچ کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق کنگ خالد ایئرپورٹ سمیت سعودی عرب کے اہم اہداف کو گزشتہ ہفتے متعدد مرتبہ میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں ہفتے کے روز ہونے والے ایک حملے میں کم از کم 12 افراد کی ہلاکت اور 300 کے زخمی ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ڈرونز کے خلاف فضائی دفاعی نظام کی ناکامی نے مختلف اقسام کے میزائل حملوں کے لیے راستہ کھولا ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی واضح نہیں کہ یمن سے ریاض کی جانب داغے جانے والے میزائلوں، جن کا فاصلہ ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ بتایا گیا ہے، کے بارے میں انتباہات جاری کرنے میں تاخیر کیوں ہوئی۔واضح رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک ماضی میں بھی سعودی عرب میں مختلف اہداف پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔ تاہم حالیہ حملوں، ہلاکتوں اور فضائی دفاعی نظام سے متعلق دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔