لاہور میں مہنگائی کا راج برقرار ہے، جہاں دکاندار سرکاری نرخنامے کو نظرانداز کرتے ہوئے سبزیاں اور پھل من مانے داموں فروخت کر رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ سرکاری قیمتوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔سرکاری نرخنامے اور اوپن مارکیٹ کی قیمتوں میں واضح فرق سامنے آیا ہے۔ آلو کی سرکاری قیمت 32 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بازار میں 50 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ پیاز 195 روپے کے بجائے 230 روپے، بینگن 80 روپے کے مقابلے میں 120 روپے اور اروی 100 روپے کے بجائے 120 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔اسی طرح ٹماٹر کی سرکاری قیمت 105 روپے فی کلو ہے، جبکہ دکاندار 150 روپے وصول کر رہے ہیں۔ کریلے بھی سرکاری قیمت 200 روپے کے بجائے 240 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔
پھلوں کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ امرود 240 روپے کے بجائے 280 روپے فی کلو، سیب 390 روپے کے مقابلے میں 420 روپے فی کلو اور کیلے 175 روپے فی درجن کے بجائے 200 روپے فی درجن فروخت کیے جا رہے ہیں۔جاپانی پھل کی سرکاری قیمت 250 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بازار میں 300 روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ انار کی قیمت 380 روپے کے بجائے 480 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری نرخنامے اور بازار کی قیمتوں میں فرق کے باعث شہریوں کو اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے اضافی رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور مقررہ قیمتوں سے زائد وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔