اسلام آباد: 26 نومبر کے واقعات سے متعلق مقدمے میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر اور عبدالغنی آفریدی کے خلاف اشتہاری کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس کی جانب سے انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارگلہ تھانے میں درج مقدمے میں مذکورہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق ملزمان کی جانب سے چالان جمع نہ کرائے جانے کے معاملے پر عدالت کی جانب سے جاری نوٹس کا جواب بھی جمع کرا دیا گیا ہے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ 23 جون 2026 کے حکم پر ملزمان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری حاصل کیے گئے تھے۔پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ملزمان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد نہیں ہو سکا، جس کے بعد قانون کے مطابق ان کے خلاف اشتہاری کارروائی کا آغاز کیا گیا۔پولیس کے مطابق اشتہاری کارروائی مکمل ہونے کے بعد ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت مقدمے کا چالان تیار کرنے کا عمل آخری مراحل میں ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمان کا چالان مکمل ہوتے ہی عدالت کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ پولیس نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ کیس کی تفتیش اور قانونی کارروائی میں کسی بھی سطح پر غفلت، تاخیر یا کوششوں کی کمی نہیں ہوئی۔پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں مزید قانونی پیش رفت سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے، جبکہ مقدمے کی آئندہ کارروائی عدالت کے احکامات کے مطابق جاری رہے گی۔