عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت برقرار رہی

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت برقرار رہی

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت دو روزہ گراوٹ کے بعد مستحکم ہوگئی، جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو کے ایک عہدیدار کے بیان سے آئندہ سال شرحِ سود میں مزید اضافے کے خدشات کم ہوئے ہیں۔

14 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں سونا تقریباً 4,170 ڈالر فی اونس پر کاروبار کرتا رہا۔ اس سے قبل مسلسل دو کاروباری سیشنز کے دوران سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 0.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کے ایک عہدیدار نے اشارہ دیا کہ رواں سال شرحِ سود میں مزید ایک اضافے کی ضرورت پیش آسکتی ہے، تاہم 2027 میں مزید سخت مالیاتی اقدامات کی ضرورت نہ پڑنے کا امکان ہے۔ اس بیان کے بعد سونے کی مارکیٹ میں محتاط مثبت رجحان دیکھا گیا، تاہم قیمت میں نمایاں تیزی سامنے نہیں آئی۔دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں حملوں میں اضافے اور توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات بڑھا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی بینک شرحِ سود بلند رکھنے یا مزید اضافے پر غور کرسکتے ہیں۔شرحِ سود میں اضافہ عموماً سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے، کیونکہ سونا براہِ راست سود فراہم نہیں کرتا، جبکہ بلند شرحِ سود کے ماحول میں سود دینے والے مالیاتی اثاثے سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پُرکشش ہوسکتے ہیں۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا آئندہ رجحان امریکی شرحِ سود، مہنگائی، ڈالر کی قدر اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال سمیت مختلف عوامل سے متاثر ہوگا۔

دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت مستحکم رہنے کے باوجود پاکستان میں اس کے نرخوں میں اضافے یا کمی کا حتمی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، کیونکہ مقامی قیمتوں پر عالمی نرخوں کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔