وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی صورتحال اور اس کے خلاف جاری اقدامات پر اظہار خیال کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور یہ مسئلہ حالیہ دنوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں ماضی میں پھیلی ہوئی ہیں۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ افغان جنگ کے بعد خطے میں دہشت گردی کے اثرات سامنے آتے رہے اور پاکستان کو بھی اس کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں آج بھی جاری ہیں، جبکہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔بریفنگ کے دوران غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو پاکستان میں دہشت گردی کے پس منظر اور موجودہ صورتحال سے متعلق حکومتی مؤقف سے آگاہ کیا گیا۔