وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کرائسز مینجمنٹ پالیسی تشکیل دے گی اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے مزید ریلیف اقدامات جلد متعارف کروائے جائیں گے۔
صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وفاق پر تنقید کی اور کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے مہنگائی کا بوجھ عوام پر ڈالا گیا، جبکہ پاکستان کی تقریباً 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے۔سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ وقتی اقدامات مسائل حل نہیں کریں گے اور مستقل و دیرپا پالیسی ضروری ہے۔ انہوں نے وفاق پر الزام لگایا کہ این ایف سی میں صوبے کا حصہ مکمل طور پر ادا نہیں کیا جا رہا، قبائلی اضلاع کو مالی طور پر ضم نہ کرنا وفاق کی ناکامی ہے، اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبہ اپنے وسائل استعمال کر رہا ہے لیکن وفاق سے مدد نہیں مل رہی۔مزید کہا کہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، جس سے اقتصادی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔