سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف مہم میں اسرائیلی فوجی تعاون کی تجویز مسترد کردی، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف مہم میں اسرائیلی فوجی تعاون کی تجویز مسترد کردی، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

ریاض: سعودی عرب نے یمن کے حوثی گروپ کے خلاف ممکنہ فوجی مہم میں اسرائیل کی شمولیت اور فوجی تعاون کی تجویز مسترد کردی ہے۔

اسرائیلی اخبار ہاریتز نے ایک نامعلوم سفارتی ذریعے کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے سعودی عرب کو فوجی تعاون کی پیشکش میں دلچسپی دلانے اور اس سلسلے میں ریاض کی منظوری حاصل کرنے کے لیے امریکی ثالثی کی کوشش کی تھی، تاہم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس تجویز کے حق میں نہیں تھے۔اخبار نے معاملے سے واقف ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سعودی قیادت کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون سے سعودی عوام میں منفی ردعمل پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر سعودی عرب مبینہ طور پر اسرائیلی فوجی مدد حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔رپورٹ میں ایک دوسرے سفارتی ذریعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کے ایک ممکنہ راستے کے طور پر دیکھتا تھا۔ اسرائیلی حکام کی مبینہ کوشش تھی کہ اس تعاون کے ذریعے مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کی راہ ہموار کی جاسکے۔

اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا معاملہ خطے کی سفارتی صورت حال میں اہمیت رکھتا ہے، تاہم زیرِ بحث رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے خلاف فوجی تعاون کی یہ مبینہ پیشکش سعودی قیادت کی حمایت حاصل نہیں کرسکی۔واضح رہے کہ یہ تفصیلات اسرائیلی اخبار ہاریتز کی رپورٹ میں نامعلوم سفارتی ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں سعودی حکومت کی جانب سے اس مبینہ تجویز کو مسترد کرنے کی باضابطہ تصدیق شامل نہیں ہے، اس لیے اس دعوے کو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ سرکاری مؤقف کے بجائے میڈیا رپورٹ سے منسوب بیان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔