محسنِ انسانیت اور ہمارا کردار

آپا منزہ جاوید 
 حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی انسانیت کے لیے رحمت محبت عدل عفو و درگزر اور حسنِ سلوک کا روشن نمونہ ہے آپ  ایسے معاشرے میں تشریف لائے جہاں طاقتور کمزور کو کچلتا تھا کمزور کے حقوق پامال کیے جاتے تھے بیٹی کی پیدائش باعثِ شرمندگی سمجھی جاتی تھی غلام انسان نہیں بلکہ ملکیت تصور کیے جاتے تھے اور قبائلی عصبیت نے انسان کو انسان سے دور کر رکھا تھا آپ  نے اپنے کردار اور اپنی تعلیمات سے انسان کو اس کی اصل عزت یاد دلائی اور بتایا کہ انسان کی قدر اس کے مال خاندان رنگ نسل یا قبیلے سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ سے ہے‘
قرآنِ مجید نے آپ  کے مقام کو یوں بیان فرمایا کہ اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے سورہ الانبیاء￿  آیت 107 
یہ ایک مختصر مگر بے حد وسیع پیغام ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے آپ کی رحمت انسانوں تک محدود نہ تھی بلکہ جانوروں پرندوں اور پوری مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم بھی آپ کی سیرت کا حصہ ہے‘ہم اگر واقعی محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہماری زندگی میں اس رحمت کا کتنا حصہ موجود ہے کیا ہماری زبان کسی دکھی انسان کے لیے تسلی کا سبب بنتی ہے یا کسی کے زخم پر نمک چھڑکتی ہے کیا ہمارے ہاتھ کسی ضرورت مند کا سہارا بنتے ہیں یا صرف اپنے فائدے کے لیے اٹھتے ہیں کیا ہمارے فیصلوں میں انصاف ہے یا تعلق دولت اور حیثیت ہماری سوچ کو بدل دیتی ہے‘رسولِ اکرم  نے انسان کے ساتھ عزت اور احترام کا ایسا معاملہ سکھایا جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے آپ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں یہ تعلیم صرف جسمانی نقصان سے بچنے تک محدود نہیں بلکہ زبان کے زخموں کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے آج ہمارے معاشرے میں بہت سے رشتے تلوار سے نہیں بلکہ الفاظ سے زخمی ہو رہے ہیں ایک جملہ کسی کے دل میں برسوں تک درد بن کر رہ جاتا ہے ہم سماجی ذرائع ابلاغ پر کسی کی تضحیک کرنے سے پہلے یہ بھول جاتے ہیں کہ دوسری طرف بھی ایک انسان ہے جس کے احساسات ہیں‘محسنِ انسانیت  نے عدل کو معاشرے کی بنیاد بنایا ‘آپ کے نزدیک انصاف دوست اور دشمن دونوں کے لیے یکساں تھا قرآنِ مجید ہمیں حکم دیتا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی ہمیں انصاف سے نہ ہٹائے سورہ المائدہ آیت 8 کا یہ پیغام آج ہمارے لیے پہلے سے زیادہ اہم ہے اگر ہم اپنی پسند کے انسان کے لیے ایک اصول اور ناپسندیدہ شخص کے لیے دوسرا اصول اختیار کریں تو ہم سیرتِ نبوی  کی روح سے دور ہو جاتے ہیں‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمزوروں کے حقوق کی حفاظت فرمائی یتیموں مسکینوں بیواؤں غلاموں اور محتاجوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی بار بار تاکید فرمائی آپ  نے یتیم کی کفالت کرنے والے کے لیے جنت میں اپنی قربت کی بشارت دی اس تعلیم کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں کو صرف خیرات کا مستحق نہ سمجھیں بلکہ انہیں عزت محبت اور خود انحصاری کا راستہ بھی فراہم کریں‘ہمارا کردار صرف یہ نہیں کہ ہم نماز پڑھیں قرآنِ مجید کی تلاوت کریں اور سیرت کی محفل میں بیٹھیں یہ سب عبادت اور محبت کے خوب صورت اظہار ہیں لیکن محبت کا اصل امتحان کردار میں ہوتا ہے اگر ہم نماز پڑھیں قرآنِ مجید کی تلاوت کریں سیرت کی محفل میں بیٹھیں اور پھر بھی کسی غریب کو حقیر سمجھیں اگر ہم دین کی باتیں سن کر نکلیں اور گھر میں اپنے والدین شریکِ حیات بچوں یا ملازمین کے ساتھ سختی کریں تو ہمیں اپنے عمل کا محاسبہ ضرور کرنا چاہیے‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو زندگی میں بھی حسنِ اخلاق کا بہترین نمونہ پیش فرمایا آپ نے فرمایا کہ تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہترین ہو ہمارے گھروں میں محبت برداشت اور احترام پیدا ہو جائے تو معاشرے کی بہت سی تلخیاں خود بخود کم ہو سکتی ہیں ایک اچھا مسلمان صرف مسجد میں اچھا نہیں ہوتا بلکہ اس کی اصل پہچان اس کے گھر والوں اور قریب رہنے والوں کے ساتھ اس کا رویہ بھی ہے‘محسنِ انسانیت  نے پڑوسی کے حقوق کو بھی غیر معمولی اہمیت دی آج بلند و بالا عمارتیں تو بڑھ رہی ہیں لیکن پڑوسی ایک دوسرے سے بے خبر ہوتے جا رہے ہیں کسی کے گھر میں بیماری ہو کسی کا چولہا ٹھنڈا ہو کوئی بوڑھا تنہائی کا شکار ہو یا کسی بچے کو تعلیم کی ضرورت ہو تو ہمیں اپنے دروازے سے باہر بھی دیکھنا چاہیے سیرتِ رسول  ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنانے کی دعوت دیتی ہے جہاں انسان صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی جیتا ہے‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی معافی اور درگزر کا بھی عظیم درس ہے فتحِ مکہ کے موقع پر وہ لوگ آپ کے سامنے تھے جنہوں نے آپ اور آپ کے ساتھیوں کو شدید تکلیفیں دی تھیں مگر طاقت ملنے کے بعد انتقام کے بجائے عفو و درگزر کا راستہ اختیار کیا گیا یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اصل عظمت صرف بدلہ لینے کی طاقت میں نہیں بلکہ معاف کرنے کی طاقت میں بھی ہے‘آج ہمیں اپنے معاشرے میں اسی اخلاق کی سب سے زیادہ ضرورت ہے معمولی اختلاف دشمنی بن جاتا ہے سیاسی اختلاف ذاتی نفرت میں بدل جاتا ہے رائے کا فرق کردار کشی تک پہنچ جاتا ہے اور سماجی ذرائع ابلاغ نے غصے کو چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچانے کا راستہ آسان کر دیا ہے ایسے ماحول میں سیرتِ طیبہ ہمیں ٹھہرنے سوچنے برداشت کرنے اور دوسرے انسان کی عزت محفوظ رکھنے کا درس دیتی ہے‘محسنِ انسانیت نے علم کی اہمیت اجاگر کی تجارت میں دیانت سکھائی وعدہ پورا کرنے کی تاکید کی امانت میں خیانت سے روکا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی اگر ایک دکاندار ناپ تول میں کمی نہ کرے ایک استاد اپنے شاگرد کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ کردار بھی دے ایک افسر اپنے منصب کو امانت سمجھے ایک والد اپنے بچوں کے ساتھ انصاف کرے ایک صاحبِ استطاعت خاموشی سے کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھام لے اور ایک نوجوان اپنی صلاحیت کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرے تو یہی سیرتِ رسول   پر عمل کا عملی اظہار ہے‘ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ محسنِ انسانیت کا پیغام صرف ماضی کا ایک عظیم باب نہیں بلکہ آج کے انسان کے لیے زندہ رہنمائی ہے دنیا جدید سہولتوں کے باوجود بے سکونی تنہائی نفرت اور عدم برداشت کا شکار ہے ہمارے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں ایسے وقت میں سیرتِ رسول  ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کو صرف سہولت نہیں محبت بھی چاہیے صرف دولت نہیں عزت بھی چاہیے صرف قانون نہیں انصاف بھی چاہیے اور صرف زندہ رہنے کا 
حق نہیں بلکہ باوقار زندگی کا حق بھی چاہیے‘ہم اپنے حصے کا چراغ جلائیں کسی ایک بچے کی تعلیم کا ذمہ اٹھا لیں کسی بیمار کی عیادت کر لیں کسی مقروض کی مدد کر دیں کسی ناراض رشتے دار سے صلح کر لیں کسی ملازم کے ساتھ عزت سے پیش آئیں کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ دیں کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیں اور سب سے بڑھ کر اپنی زبان اور ہاتھ سے کسی انسان کو تکلیف نہ پہنچائیں یہی چھوٹے چھوٹے اعمال ایک بڑے اور رحم دل معاشرے کی بنیاد بن سکتے ہیں‘محبتِ رسول کا تقاضا یہ ہے کہ ہماری شخصیت میں آپ  کی تعلیمات کی جھلک دکھائی دے ہماری گفتگو میں نرمی معاملات میں دیانت فیصلوں میں انصاف کمزوروں کے لیے رحم مخالف کے لیے شائستگی گھر والوں کے لیے محبت اور معاشرے کے لیے ذمہ داری نظر آئے‘محسنِ انسانیت نے انسان کو انسان کی قدر سکھائی اب سوال یہ ہے کہ ہم نے اس پیغام کو کتنا سمجھا اور اپنی زندگی میں کتنا اتارا اگر ہمارے کردار سے کسی دکھی دل کو سکون ملتا ہے کسی مجبور کو سہارا ملتا ہے کسی مظلوم کو انصاف ملتا ہے اور کسی انسان کو اپنی عزت کا احساس ہوتا ہے تو شاید ہم اپنے نبی رحمت  کے پیغام کی طرف ایک قدم بڑھ رہے ہیں‘ہمیں سیرتِ طیبہ کو صرف پڑھنا نہیں بلکہ جینا ہے کیونکہ محسنِ انسانیت سے سچی محبت کا سب سے خوب صورت ثبوت یہی ہے کہ ہماری ذات بھی انسانیت کے لیے خیر رحمت اور آسانی کا ذریعہ بن جائے