شیخ محمد انور
ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انسان کے پاس سہولتیں بہت ہیں مگر سکون کم،رابطے بہت ہیں مگر تعلقات کم،گفتگو بہت ہے مگر برداشت کم اور شکایتیں بے شمار ہیں مگر معافی کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے ہم نے ترقی کے نام پر دنیا کو قریب کر لیا مگر اپنے ہی دلوں میں فاصلے پیدا کر لئے موبائل فون نے ہزاروں میل دور بیٹھے انسان کو چند لمحوں میں ہمارے سامنے لا کھڑا کیا مگر بعض اوقات ہمارے ساتھ بیٹھا ہوا شخص بھی ہمارے دل سے میلوں دور ہوتا ہے۔
آخر ایسا کیوں ہے؟
شاید اس لئے کہ ہم نے اپنی انا کو اپنے رشتوں سے بڑا سمجھ لیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ دوسرا پہلے جھکے دوسرا پہلے معافی مانگے دوسرا اپنی غلطی تسلیم کرے دوسرا فون کرے دوسرا تعلق بچانے کے لئے قدم بڑھائے ہم اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں اور انتظار کرتے رہتے ہیں کہ سامنے والا کب واپس آئے گا مگر کبھی ہم نے یہ سوچا کہ اگر دونوں اپنی اپنی جگہ کھڑے رہیں تو پھر درمیان کا فاصلہ کون ختم کرے گا
رشتے انا سے نہیں قربانی سے بچتے ہیں اور بعض اوقات کسی رشتے کو بچانے کے لیے سب سے بڑی قربانی اپنی انا کی دینی پڑتی ہے
یہی وہ مقام ہے جہاں معافی انسان کے کردار کا امتحان بن جاتی ہے جہاں معاف کرنے سے خوش گوار تعلقات، محبت اور اچھائی کے دوبارہ جنم لینے کا امکان موجود ہو وہاں بدلہ لینا صرف غصے کا اظہار نہیں بلکہ ظلم بن جاتا ہے بدلہ وقتی طور پر دل کو تسکین دے سکتا ہے مگر معافی روح کو سکون دیتی ہے بدلہ ایک زخم کے جواب میں دوسرا زخم دیتا ہے جبکہ معافی زخم پر مرہم رکھتی ہے بدلہ دشمنی کا دائرہ وسیع کرتا ہے معافی اسے وہیں روک دیتی ہے
اور شاید یہی وجہ ہے کہ بڑے انسانوں کی پہچان یہ نہیں کہ انہوں نے کتنے لوگوں کو شکست دی بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے کتنے لوگوں کو معاف کیا معافی کمزوری نہیں کردار کی بلندی ہے ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تصور جڑ پکڑ چکا ہے کہ جو شخص معاف کر دے وہ کمزور ہے اور جو بدلہ لے وہ طاقتور یہ سوچ خطرناک ہے غصے میں آ جانا آسان ہے کسی کو برا بھلا کہنا آسان ہے تعلق توڑ دینا آسان ہے بدلہ لینا آسان ہے مگر غصے کے عروج پر اپنے آپ کو روک لینا زبان کو قابو میں رکھنا اور دل میں یہ کہنا کہ میں اسے معاف کرتا ہوں ہر شخص کے بس کی بات نہیں اس کے لئے بڑے دل کی ضرورت ہوتی ہے اسی لئے معافی بزدلوں کا ہتھیار نہیں بلکہ بہادر انسانوں کا وصف ہے اپنے دل کو درخت بنائیے
ذرا ایک ہرے بھرے درخت کا تصور کیجیے وہ دھوپ برداشت کرتا ہے مگر دوسروں کو سایہ دیتا ہے بارش خود سہتا ہے مگر زمین کو زندگی دیتا ہے لوگ اس پر پتھر پھینکیں تو وہ جواب میں پتھر نہیں پھینکتا بلکہ پھل دیتا ہے
انسان کا دل بھی ایسا ہی ہونا چاہیئے اپنے دل کو ایک ایسے ہرے بھرے درخت کی مانند بنا کر رکھیے جس پر محبت کے پھول کھلیں صبر کی شاخیں پھیلیں اور معافی کے پھل لگیں اپنے دل میں نفرت کے کانٹے اگنے نہ دیں حسد کی خشک شاخوں کو جگہ نہ دیں انتقام کی آگ سے اپنے اندر کا سکون نہ جلائیں کیونکہ جب دل نفرت سے بھر جاتا ہے تو سب سے پہلے ہم خود جلتے ہیں جس شخص نے ہمیں ایک مرتبہ دکھ دیا اگر ہم اسے برسوں تک اپنے دل میں بسا کر رکھتے ہیں تو وہ ہمیں صرف ایک بار نہیں بار بار تکلیف دیتا ہے اس سے بہتر نہیں کہ ہم اسے معاف کر دیں اور اپنے دل کو آزاد کر لیں اسلام کا پیغام انتقام سے بلند ہو کر درگزر ہے
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں اسلام کردار کا نام بھی ہے اسلام زبان سے ادا ہونے والے کلمات کے ساتھ ساتھ انسان کے رویے میں نظر آنا چاہیئے رسولِ اکرم ? کی سیرتِ مبارکہ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت ملنے کے بعد معاف کر دینا بدلہ لینے کی قدرت ہونے کے باوجود درگزر کرنا اور دشمن کے سامنے بھی اخلاق کی بلندی برقرار رکھنا ہی اصل عظمت ہے فتحِ مکہ کا منظر انسانی تاریخ کے ان عظیم ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے جہاں طاقت کے باوجود انتقام کو ترجیح نہیں دی گئی یہ ہمارے لئے ایک واضح پیغام تھا فتح صرف شہر فتح کرنے کا نام نہیں اصل فتح اپنے نفس، اپنے غصے اور اپنی انتقام کی خواہش پر قابو پانا ہے
آج ہمیں اسی سبق کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ہم اپنے گھروں میں معمولی باتوں پر ناراض ہیں خاندانوں میں رنجشیں ہیں دوستیاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ختم ہو رہی ہیں بھائی بھائی سے دور ہے پڑوسی پڑوسی سے ناراض ہے اور حیرت یہ ہے کہ ہم سب سکون چاہتے ہیں مگر سکون پیدا کرنے کے لئے اپنے اندر تبدیلی لانے کو تیار نہیں ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بدل جائے مگر شاید دنیا بدلنے کا آغاز ہمیں اپنے آپ سے کرنا ہوگا ایک معافی کئی زندگیاں بدل سکتی ہے
کبھی ایک معافی صرف ایک رشتہ نہیں بچاتی پورا خاندان بچا لیتی ہے کبھی ایک فون برسوں کی ناراضگی ختم کر دیتا ہے کبھی ایک جملہ جو ہوا اسے بھول جاؤکسی کے دل سے برسوں کا بوجھ اتار دیتا ہے اور کبھی کسی کے سامنے جھک کر کہا گیا ایک مختصر سا جملہ مجھے معاف کر دو دو انسانوں کے درمیان کھڑی نفرت کی پوری دیوار گرا دیتا ہے تو پھر ہم انتظار کیوں کرتے ہیں کس چیز کا انتظار ہے کیا ہماری انا ہمارے رشتوں سے زیادہ قیمتی ہے
کیا چند الفاظ کی سختی اتنی بڑی ہے کہ برسوں کی محبت کو دفن کر دیا جائے
کیا ایک غلطی کسی انسان کی پوری زندگی کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ انسان فرشتہ نہیں غلطی ہم سے بھی ہو سکتی ہے آج ہم کسی کو معافی دینے سے انکار کریں گے تو کل ممکن ہے ہمیں بھی کسی کی معافی کی ضرورت پڑ جائے رشتے ٹوٹنے سے پہلے بچا لیجیے زندگی بہت مختصر ہے ہم میں سے کسی کو معلوم نہیں کہ کون سی ملاقات آخری ملاقات ہے کون سی گفتگو آخری گفتگو ہے اور کون سا دن زندگی کی آخری صبح بن جائے پھر کیوں نہ ہم دلوں سے بوجھ اتار دیں کیوں نہ ان لوگوں کو معاف کر دیں جنہوں نے ہمیں دکھ دیا کیوں نہ ان لوگوں سے معذرت کر لیں جن کے دل ہماری کسی بات سے زخمی ہوئے رشتے شیشے کی مانند ہوتے ہیں ایک بار ٹوٹ جائیں تو جوڑنے کے بعد بھی دراڑ کا نشان باقی رہ جاتا ہے اس لئے رشتے ٹوٹنے سے پہلے انہیں بچا لیجیے
محبت کا اظہار کرنے میں دیر نہ کریں معافی مانگنے میں دیر نہ کریں معاف کرنے میں دیر نہ کریں اور اپنوں کو گلے لگانے میں کبھی دیر نہ کریں
ہمیں کیسا معاشرہ چاہیئے اگر ہم ایک پْرامن پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں صرف قوانین نہیں،کردار بھی بدلنا ہوگا امن صرف سڑکوں پر پولیس کھڑی کرنے سے نہیں آتا امن دلوں میں پیدا ہوتا ہے ایک ایسا معاشرہ جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے جہاں غلطی ناقابلِ معافی جرم نہ ہو جہاں طاقتور کمزور کو کچلنے کے بجائے سہارا دے جہاں بڑا چھوٹے کو معاف کرے جہاں بھائی بھائی کا ہاتھ پکڑے اور جہاں انسان دوسرے انسان کے لئے آسانی پیدا کرے وہی معاشرہ حقیقی ترقی کی طرف بڑھ سکتا ہے ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیابی کا سبق نہیں دینا انسانیت کا سبق بھی دینا ہوگا انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ ہر بحث جیتنا ضروری نہیں کبھی رشتہ جیتنے کے لئے بحث ہارنا پڑتی ہے کبھی سکون حاصل کرنے کے لئے اپنی انا قربان کرنا پڑتی ہے اور کبھی کسی کو معاف کرکے انسان دراصل خود کو آزاد کرتا ہے
آج ایک عہد کیجیے اگر آپ کے دل میں کسی کے لئے ناراضی ہے تو آج اسے یاد کیجیے اگر ممکن ہو تو اسے فون کیجیے اگر فون نہیں کر سکتے تو پیغام بھیج دیجیے
اگر پیغام بھی نہیں بھیج سکتے تو کم از کم اپنے دل میں اسے معاف کر دیجیے
ممکن ہے آپ کا ایک قدم کسی ٹوٹے ہوئے انسان کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دے
ممکن ہے آپ کی ایک معافی کسی گھر کا چراغ بجھنے سے بچا لے ممکن ہے آپ کی ایک مسکراہٹ کسی کے دل کا برسوں پرانا دکھ کم کر دے اور ممکن ہے آپ کا ایک اچھا عمل آپ کے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے اپنے دل کو ہرے بھرے درخت کی مانند بنا کر رکھیے لوگ پتھر بھی ماریں تو آپ سایہ دیتے رہیے لوگ تکلیف دیں تو جہاں ممکن ہو درگزر کرتے رہیے لوگ نفرت دیں تو محبت بانٹتے رہیے
کیونکہ دنیا کو آج بدلہ لینے والوں سے زیادہ معاف کرنے والے انسانوں کی ضرورت ہے ہمیں ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو آگ میں پانی بن کر اتریں نفرت میں محبت کا چراغ جلائیں اور ٹوٹتے ہوئے رشتوں کے درمیان پل بن جائیں شاید یہی انسانیت کی آخری امید ہے اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک انسان صرف اچھا انسان نہیں رہتا بلکہ دوسروں کے لئے رحمت بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں سے کدورتیں نکال دے نفرتوں کو محبت میں بدل دے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑ دے ناراض دلوں کو منا دے ہمیں اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ دے اور دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے کا ظرف عطاء فرمائے اے اللہ ! ہمیں ایسا مسلمان بنا دے جس کی زبان سے کسی کا دل نہ ٹوٹے جس کے ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے جس کے کردار سے انسانیت کو روشنی ملے اور جس کی موجودگی دوسروں کے لئے باعثِ سکون بن جائے۔
آمین یا رب العالمین۔
سدا خوش رہیں،آباد رہیں، محبت بانٹتے رہیں کیونکہ آخرکار انسان کے پاس جو کچھ رہ جاتا ہے وہ اس کی دولت نہیں اس کا عہدہ نہیں اس کی شہرت نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں چھوڑی ہوئی اس کی محبت،اس کا کردار اور اس کی دعائیں ہوتی ہیں۔