عاصم رضا خیا لوی
کبھی کبھی زندگی کے عام سے مناظر بھی انسان پر ایسے راز کھول دیتے ہیں جو فلسفے کی ہزار کتابیں بھی نہ بتا سکیں۔ آج صبح ایسا ہی ایک منظر میری نظروں کے سامنے سے گزرا۔ صبح کے چھے بجے کا وقت تھا، میں اپنے گھر کے باہر تھڑے پر بیٹھا اخبار کا انتظار کر رہا تھا۔ سامنے مرغیوں کی دکانوں پر ہمیشہ کی طرح برائلر مرغیوں سے بھری گاڑی آ کر رکی۔ پنجروں میں قید، خوف زدہ، پھڑپھڑاتی بیبس جانیں، اور قصائی اپنے کام میں مصروف۔
اچانک ایک منظر نے مجھے جیسے وقت کے دھارے سے کاٹ کر علیحدہ کر دیا۔ ایک مرغی اپنی چونچ پنجرے کی جالی سے باہر نکالے بیٹھی تھی۔ آنکھیں بند تھیں، جیسے کسی خاموش اطمینان میں گم ہو کہ شاید وہ بچ گئی ہے۔ باقی مرغیاں پنجرے سے نکالی جا رہی تھیں، ترازو پر پھینکی جا رہی تھیں۔ ترازو — جو گوشت تولنے کا آلہ نہیں تھا بلکہ موت کا تول تھا۔
پھر قصائی نے کہا، "وزن پورا نہیں ہوا، ایک اور نکالو۔" اور سیدھا ہاتھ اسی پنجرے کی طرف بڑھا۔ پلک جھپکتے میں وہ مرغی بھی چھری کے نیچے آ گئی، جو پل بھر پہلے خود کو محفوظ سمجھ رہی تھی۔
یہ منظر میرے دل و دماغ پر جیسے نقش ہو گیا۔ میں دیر تک سوچتا رہا کہ یہ مرغی اصل میں آج کی انسانیت کی تصویر ہے۔ ہم سب بھی تو مختلف پنجروں میں قید ہیں — کوئی مذہب کے پنجرے میں، کوئی قوم پرستی کے، کوئی سیاست کے، اور کوئی طاقت کے غرور کے پنجرے میں۔ ہر کوئی یہی سمجھ رہا ہے کہ شاید وہ محفوظ ہے۔ شاید موت یا تباہی کسی اور کی ہوگی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے طاقتور قصائی ہمارے چاروں طرف تیار کھڑے ہیں۔ جب چاہیں گے، اپنے مفادات کے ترازو پر ہمیں بھی تول کر چھری کے نیچے ڈال دیں گے۔
یہی آج کی دنیا ہے۔ طاقتور اقوام ہاتھوں میں ترازو لیے، کمزور قوموں کی لاشیں تول رہی ہیں۔ کبھی فلسطین کا گوشت بیچتے ہیں، کبھی شام، کبھی یمن، کبھی یوکرین، اور اب ایران و اسرائیل کی جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے۔ ہر طرف خون کی ارزانی ہے اور باقی دنیا تماشائی بن کر محض قراردادوں کی "مذمت" کے الفاظ دہرا رہی ہے۔ جیسے پنجرے میں قید مرغیاں ایک دوسرے کو خاموش نظروں سے دیکھ کر بس یہی سوچتی ہوں: شاید آج موت کسی اور کی ہوگی۔
طاقتور اقوام یہ سمجھتی ہیں کہ وہ ہمیشہ بچے رہیں گے۔ ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، تیل کے سمندر، خزانے، فوجیں — لیکن وہ نہیں جانتے کہ یہ ترازو سب کے لیے ہے۔ آج فلسطین کا وزن ہو رہا ہے، کل شاید ان کے اپنے ملکوں کی باری ہو۔ موت کا قصائی نہ قوم دیکھتا ہے نہ مذہب، نہ طاقتور نہ کمزور — بس تول پورا ہونا چاہیے۔
پنجابی کے ایک پرانے قول کی طرح:
"ککڑ کھے اْڈّائی، سر اپنے وچ پائی۔"
(یعنی جب سب کچھ لوٹ چکا ہو، تو آخرکار اپنا ہی سر کاٹنے پر تْل جاتا ہے)
یہ انسان کی حماقت کی انتہا ہے۔ جتنی بھی ترقی کر لے، طاقت کا نشہ کم نہیں ہوتا، لالچ کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ قدرت کی نعمتیں ختم ہو جائیں، زمینیں تباہ ہو جائیں، پانی خشک ہو جائے — مگر ہوس باقی رہتی ہے۔
دنیا کو اب خوابِ غفلت سے جاگنا ہوگا۔ اگر اب بھی ہم نے آنکھیں بند رکھیں تو یاد رکھیں:
"جو آج ترازو پر نہیں آیا، کل اس کا وزن بھی لازم ہوگا۔"
اب بھی وقت ہے۔ انسانیت کو پنجرے سے آزاد کرائیے — ورنہ کل قصائی کا ہاتھ آپ کے پنجرے کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔