کاشف بٹ
یہ سانحہ اب صرف ریاست کی ناکامی نہیں رہا، یہ ہم سب کی اجتماعی گناہ گاری کی تصویر بن چکا ہے۔گل پلازہ کے ملبے تلے صرف اینٹیں، سیمنٹ اور لوہا نہیں دبا، وہاں ضمیر، سچ اور انسانیت بھی دفن ہو گئی۔ 26 جانیں چلی گئیں، 83 افراد لاپتہ ہیں، اور درجنوں خاندان ایسے ہیں جو نہ مکمل ماتم کر سکتے ہیں نہ امید چھوڑ سکتے ہیں۔ جو زندہ بچ گئے، وہ زندہ رہ کر بھی مر گئے—کیونکہ ان کی محنت، سرمایہ، عزت اور مستقبل سب ایک لمحے میں راکھ ہو گیا۔ہم ہمیشہ انگلی حکومت اور اداروں کی طرف اٹھاتے ہیں، اور وہ یقیناً ذمہ دار ہیں—مگر آج سچ یہ ہے کہ یہ قتل صرف ریاست نے نہیں کیا، اس میں نجی حرص بھی برابر کی شریک ہے۔وہ پلازہ مالکان کہاں ہیں؟جنہیں معلوم تھا کہ عمارت میں ایمرجنسی ایگزٹ نہیں، فائر سیفٹی کا کوئی انتظام نہیں، سیڑھیاں تنگ ہیں، راستے بند ہیں، مگر پھر بھی دکانیں بیچیں، کرائے لیے، اور انسانوں کو ایک زندہ قبر میں بٹھا دیا۔وہ دکاندار بھی کہاں ہیں—جو جانتے تھے کہ یہ عمارت محفوظ نہیں، مگر یہ کہہ کر خود کو تسلی دیتے رہے‘‘مرنا تو ایک دن ہے ہی‘‘حادثہ ہونا ہوتا تو پہلے ہو چکا ہوتا’’یہ جملے آج ان کے لیے زندگی کا سب سے ظالم مذاق بن چکے ہیں۔سچ یہ ہے کہ حقیقت سے انکار بھی ایک جرم ہوتا ہے۔جب خطرہ آنکھوں کے سامنے ہو اور ہم خاموش رہیں، تو ہم بھی اس سانحے کے شریک بن جاتے ہیں۔
آج وہی دکاندار، جو کل حقیقت ماننے سے انکار کر رہے تھے، ملبے کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں، ہاتھ پھیلا رہے ہیں، اور اپنے ہی فیصلوں پر نوحہ کر رہے ہیں۔حکومت اور اداروں کی مجرمانہ غفلت اپنی جگہ—
جعلی این او سیز، کاغذی انسپیکشن، رشوت پر بند آنکھیں، اور ہر سانحے کے بعد ‘‘تحقیقات کا حکم’’—جو کبھی انجام تک نہیں پہنچتا۔
یہ شہر قبرستان بنتا جا رہا ہے، اور ریاست تماشائی بنی ہوئی ہے۔اور ظلم کی انتہا دیکھیں—
لاشوں کے بیچ سیاست چمکائی جا رہی ہے،غمزدہ چہروں کے سامنے کیمرے ٹھونسے جا رہے ہیں،ہر کوئی ویڈیو بنا کر خود کو ‘‘درد مند’’ ثابت کرنا چاہتا ہے،مگر کوئی نہیں جو واقعی ان ٹوٹے ہوئے لوگوں کے زخموں پر ہاتھ رکھے۔اس تباہی میں اگر کسی نے سچ میں فرض نبھایا تو وہ ریسکیو اہلکار تھے۔بغیر جدید مشینری، بغیر مکمل حفاظتی سامان، جان ہتھیلی پر رکھ کر ملبے میں اترنے والے وہ لوگ—جو خود زخمی ہوئے، مگر رکے نہیں۔یہ سوال مگر ہمیں شرمندہ کرتا ہے کہ:کیا ہم نے انہیں وہ سہولیات دیں جن کے وہ حق دار تھے؟یا ہم ہمیشہ ان کی قربانی کو اپنی ناکامی چھپانے کے لیے استعمال کرتے رہیں گے؟آج اصل سوال یہ نہیں کہ یہ سانحہ کیوں ہوا—
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم آئندہ بھی اسی طرح مرتے رہیں گے؟کیا پلازہ مالکان پھر منافع کے لیے انسانی جانیں داؤ پر لگائیں گے؟کیا دکاندار پھر خطرہ جان کر بھی خاموش رہیں گے؟کیا حکومت پھر ‘‘انکوائری’’ کا لالی پاپ دے کر فائل بند کر دے گی؟چند دن بعد میڈیا چلا جائے گا، لوگ بھول جائیں گے—مگر وہ ماں نہیں بھولے گی جس کا بیٹا ملبے تلے ہے،وہ باپ نہیں بھولے گا جس کی کمائی دفن ہو گئی،
اور وہ زندہ بچ جانے والا کبھی اس خواب سے باہر نہیں آ سکے گا۔اگر اس بار بھی سخت احتساب، شفاف انصاف اور عملی اصلاحات نہ ہوئیں
تو یاد رکھیں—اگلا پلازہ، اگلی لاشیں، اگلا نوحہ ہم سب کا انتظار کر رہا ہے۔یہ وقت خاموشی کا نہیں، سچ بولنے کا ہے کیونکہ اگر ہم نے آج سچ
نہ بولا تو کل ملبے کے نیچے ہماری باری ہو سکتی ہے