انسانیت کے حقوق اور حقِ نفس سے حقِ غیر تک

احمدخان اچکزئی 
محترم قارئین۔ انسانیت کے حقوق محض کاغذ کے چند بوجھل ٹکڑے یا عالمی اداروں کی بے جان قراردادیں نہیں بلکہ یہ وہ آفاقی سچائی ہے جس کے گرد کائنات کا تمام تر نظام گردش کرتا ہے اور جب ہم اس حساس موضوع کا اسلامی تناظر میں مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام نے حقوقِ انسانی کا وہ جامع اور ہمہ گیر تصور پیش کیا ہے جو آج سے چودہ سو سال قبل انسانی وہم و گمان میں بھی نہ تھا، خطبہ حجتہ الوداع انسانی حقوق کا وہ پہلا عالمی چارٹر ہے جس نے نسل، رنگ، زبان اور طبقاتی تفاخر کے تمام بتوں کو ہمیشہ کے لیے پاش پاش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں واضح طور پر اعلان فرمایا کہ "جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کر دیا" (المائدہ: 32)۔ یہ آیتِ مبارکہ انسانی جان کی حرمت کو کائنات کی وسعتوں اور بقا سے جوڑ دیتی ہے، اسلام میں حقِ بندگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو اس قدر غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حقوق کی معافی تو اپنے کرم کے ذمے رکھی ہے مگر بندوں کے حقوق کی تلافی کو صاحبِ حق کی رضا مندی سے مشروط کر کے عدل کا وہ معیار قائم کیا جس کی مثال تاریخِ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے، میثاقِ مدینہ کے ذریعے اقلیتوں کو وہ تحفظ فراہم کیا گیا جس کی مثال آج کی نام نہاد جدید جمہوریتیں بھی پیش نہیں کر سکتیں، یہی وہ اسلامی پہلو ہے جو انسان کو محض مٹی کے پتلے سے اٹھا کر اشرف المخلوقات کے بلند ترین منصب پر فائز کرتا ہے اور اسے معاشی، سیاسی اور سماجی آزادیوں کا حقیقی ضامن بناتا ہے۔ اگر قانونی پہلو کا عمیق جائزہ لیا جائے تو انسانی حقوق کی جدید تاریخ 1215ء￿  کے "میگنا کارٹا" سے شروع ہو کر 1948ء￿  کے اقوامِ متحدہ کے عالمگیر اعلامیے تک محیط نظر آتی ہے، قانون کی نظر میں ہر انسان مساوی ہے اور کسی کو بھی بغیر کسی ٹھوس قانونی جواز کے قید و بند یا جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ قانون کا بنیادی مقصد ہی طاقتور کے جبر و استبداد سے کمزور طبقے کو تحفظ فراہم کرنا ہے، آج عالمی عدالتِ انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت جیسے ادارے اسی تگ و دو میں مصروف ہیں کہ ریاستوں کو ان کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا پابند بنایا جائے، قانونی ڈھانچے میں حقِ اظہارِ رائے، حقِ تعلیم اور حقِ ملکیت کو اساسی حیثیت حاصل ہے لیکن یہاں ایک عجیب و غریب تضاد یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جہاں قانون کی کتابیں ضخیم سے ضخیم تر ہوتی جا رہی ہیں وہیں عالمی سطح پر مفادات کی جنگ میں انسانی حقوق کی پامالی کے نت نئے اور ہولناک طریقے بھی ایجاد کیے جا رہے ہیں، قانون جب تک اعلیٰ اخلاقیات سے ہم آہنگ نہ ہو وہ محض ایک بے جان تحریر بن کر رہ جاتا ہے اور آج کے دور میں ڈیجیٹل حقوق اور پرائیویسی کا حق بھی اس بحث کا حصہ بن چکے ہیں جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کا تصور جامد نہیں بلکہ ارتقائی ہے۔ معاشرتی پہلو سے انسانیت کے حقوق کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ دراصل معاشرے کے رویوں، باہمی ہمدردی اور مروت کا نام ہے، ایک صحت مند اور متوازن معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں عورت کو احترام، بچے کو مکمل تحفظ، بوڑھے کو سہارا اور معذور کو باوقار زندگی حاصل ہو، معاشرتی طور پر حقوق کی 
ادائیگی محض کوئی قانونی فرض نہیں بلکہ یہ ایک ایسا اخلاقی قرض ہے جسے ہر فرد نے چکانا ہوتا ہے، جب کسی معاشرے میں طبقاتی تقسیم کی خلیج بڑھتی ہے تو وہاں انسانی حقوق کا جنازہ نکل جاتا ہے، یہاں عجیب و غریب حقیقت یہ ہے کہ ہم اکثر دوسروں سے تو اپنے حقوق کا مطالبہ پوری شدومد سے کرتے ہیں مگر اپنے اوپر عائد فرائض کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں، انسانیت کا اصل حْسن اس وقت نکھرتا ہے جب معاشرہ "جیو اور جینے دو" کے سنہری فلسفے پر عمل پیرا ہو، سماجی انصاف کا مطلب صرف روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی نہیں بلکہ انسان کو وہ سازگار ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنے ذہنی اور تخلیقی جوہر نکھار سکے، مگر آج کے عالمی معاشرے میں نفرت انگیز تقاریر اور نسلی تعصب انسانی حقوق کے لیے سب سے بڑا ناسور بن چکے ہیں۔ جدید دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مصنوعی سیاسی کارکن اور مفاد پرست ٹولے انسانیت کے ان ٹھوس حقائق کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ انسانی حقوق کا واویلا صرف اس وقت کرتے ہیں جب ان کے اپنے مفادات پر زد پڑتی ہے ورنہ عام آدمی کے دکھوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، یہ سیاسی منافقت انسانیت کی توہین ہے، سچائی یہی ہے کہ حقِ انسانیت کی پامالی دراصل خالقِ کائنات کی تخلیق کی توہین ہے اور جو قوم اس جرمِ عظیم کی مرتکب ہوتی ہے وقت اسے بے رحمی سے گمنامی کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے، لہٰذا ہمیں حقوق کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے انہیں ایک مقدس امانت کے طور پر سنبھالنا ہوگا تاکہ دنیا واقعی امن کا گہوارہ بن سکے۔