بدلتی دنیا اور ہمارا کردار

تحریر:رباب گل

دنیا کی تخلیق نہایت نازک اور پرکشش عمل تھا۔ جس میں ہر شے کا وجود انسان کی فطرت کے مطابق تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ کائنات گویا انسان کے لیے ایک حسین مسکن بنائی گئی، جہاں ہر درخت کی سرسبز شاخ، ہر پھول کی مہک اور ہر پرندے کی چہکار اس بات کی گواہی دیتی ہے  کہ یہ سب کچھ انسان کے لیے ہے۔ انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اس دنیا میں بھیجا گیا تاکہ وہ اس زمین کو آباد کرے، اس کے وسائل کا بھرپور فائدہ اٹھائے اور خالق کی نعمتوں کا شکر گزار ہو۔
بے شک وقت کا دھارا کبھی نہیں رکتا اور اس کی رفتار کے ساتھ انسان کی زندگی میں بھی کئی تبدیلیاں آئیں۔ پہلے لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے اور دنیا کی اصل حقیقت سے قریب تر ہوتے تھے مگر جیسے جیسے سائنسی ترقی نے قدم جمانا شروع کیا، انسان کی زندگی میں بھی بڑی تبدیلی آئی۔ جدید ٹیکنالوجی نے انسان کی زندگی کے ہر گوشے کو بدل دیا۔ اب وہ اپنے آس پاس کی دنیا کو جدید آلات اور مشینوں سے گھیر چکا ہے۔ ان آلات نے جہاں زندگی کو آسان بنایا، وہیں اس نے انسان کے اندر ایک ایسی تیز رفتاری پیدا کر دی کہ وقت کا گزرنا بھی ایک دوڑ بن چکا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب انسان اپنے روزمرہ کے کاموں میں سادگی اختیار کرتا تھا، کھانے پینے کی اشیاء￿  کو محفوظ رکھنے کے لیے محنت کرتا تھا لیکن آج کے دور میں ٹیکنالوجی نے یہ تمام مشکلات حل کر دیں۔ فریزر اور ریفریجریٹر نے گوشت اور سبزیوں کو مہینوں تک محفوظ رکھنے کا عمل اتنا آسان بنا دیا کہ اب کسی کو ان چیزوں کو ذخیرہ کرنے کے لیے محنت نہیں کرنی پڑتی۔ گوشت کئی دن تک تازہ رہتا ہے، پھل اور سبزیاں کئی دنوں تک اپنے ذائقے اور خوشبو کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہ تمام ترقی انسان کی ذہانت کا نتیجہ ہے لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ان سہولتوں کا انسانی زندگی پر کیا اثر پڑا ہے؟
پہلے کے وقتوں میں جب لوگ ایک دوسرے کے قریب تھے، تب معاشرتی تعلقات میں گہرائی اور خلوص تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ میں شریک ہوتے تھے اور محلے کی ہر خوشی یا غم سب کا مشترک بن جاتا تھا۔ محلے کے لوگ ایک دوسرے کے غم میں شریک ہوتے، شادیوں اور عیدوں کے موقع پر گلیوں میں گیت گائے جاتے اور ہر فرد کا دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ 
لیکن آج، جب ٹیکنالوجی نے ہمیں اپنی گرفت میں لے لیا ہے، ہم نے یہ تعلقات کہیں نہ کہیں کھو دیے ہیں۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے ہمیں جسمانی طور پر ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کی عادت تقریباً ختم کر دی ہے۔ ہم نے اپنے احباب سے ملنے کا وقت نکالنا بند کر دیا ہے اور تعلقات صرف فیس بک کی لائکس اور واٹس ایپ کے میسجز تک محدود ہو گئے ہیں۔
یہ تبدیلی صرف معاشرتی زندگی تک محدود نہیں رہی بلکہ انسان کی سوچ اور اس کی ترجیحات میں بھی نمایاں فرق آیا ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو مادی دنیا کے چکر میں اس طرح مگن کر لیا ہے کہ روحانی سکون اور انسانی تعلقات کی اہمیت کہیں گم ہو گئی ہے۔ ہم نے دولت، شہرت اور عیش و آرام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے اور اس کے پیچھے دوڑتے ہوئے ہم نے اپنے آپ کو دوسروں کے دکھوں سے بیگانہ کر لیا ہے۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ زندگی کی اصل حقیقت چیزوں میں نہیں بلکہ تعلقات میں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم اپنے کردار کو بہتر کیسے کرسکتے ہیں؟ تو قارئین! اس کے لیے ہم اسلامی تعلیمات کی مدد کے سکتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات ہمیں ہمیشہ ایک دوسرے کے قریب رہنے، محبت اور ہمدردی کی اہمیت سکھاتی ہیں۔ ہمارا مذہب، جو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، ہمیں پیار، اخوت، برابری اور انسانیت کے اعلیٰ اصولوں کی پیروی کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ اسلام میں ذات، نسل اور رنگ کا کوئی فرق نہیں ہے۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج? الوداع کے موقع پر فرمایا: "کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔" یہ فرمان ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل عظمت اس کے کردار اور تقویٰ میں ہے، نہ کہ اس کی نسل یا دولت میں۔
آج جب دنیا اس تیز رفتار ترقی کے دور سے گزر رہی ہے، ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں اور اپنے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں توازن پیدا کرنا ہوگا تاکہ ہم ٹیکنالوجی کے فوائد کو اپنی سوچ میں اضافے اور دوسروں کے لیے محبت و ہمدردی بڑھانے کے لیے استعمال کر سکیں۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بدلتے ہوئے حالات میں اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں اور دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھیں۔ ہمیں اپنے عزیزوں کے لیے وقت نکالنا ہوگا، ان کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا اور ان کے لیے محبت کا پیغام بننا ہوگا۔ کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں بھی سکون دے گا اور آخرت میں بھی کامیابی کی منزل تک پہنچائے گا۔
دنیا میں تبدیلی کا آغاز خود ہم سے ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی سوچ، اپنے عمل اور اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں، تو اس کا اثر ہمارے ارد گرد کے لوگوں پر بھی پڑے گا اور ہم ایک بہتر معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔ یہ دنیا عارضی ہے اور ہمارا اصلی مقصد اس دنیا میں محبت اور امن کا پیغام پھیلانا ہے تاکہ ہم اس سفر کے دوران خالق کے قریب پہنچ سکیں۔