مغربی کنارے پر نئی غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیرات کی منظوری کے بعد عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
برطانیہ اور فرانس سمیت 21 ممالک نے اس اقدام پر سخت تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے عالمی قوانین اور قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہودی آبادکاروں کے لیے مغربی کنارے پر 5 مربع میل (12 مربع کلومیٹر) علاقے میں نئی تعمیرات کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت 3 ہزار 400 مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔
عالمی ردِعمل
برطانیہ نے اس اقدام پر سخت احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے اسرائیلی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کیا۔ برطانوی حکام نے اسرائیلی سفیر کو واضح طور پر بتایا کہ یہ منصوبہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید دھچکا لگے گا۔فرانس، آسٹریلیا، کینیڈا، اسپین، اسٹونیا، لکسمبرگ، اٹلی، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، سلووینیا، لٹویا، لتھوانیا، بیلجیئم، فن لینڈ، آئس لینڈ، پرتگال، ناروے، سویڈن اور جاپان نے بھی اسرائیلی اقدام کی مذمت کی۔
اقوام متحدہ اور فلسطینی ردِعمل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اسرائیلی منصوبے کو عالمی قوانین کے خلاف اور خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی نے اس منصوبے کو فلسطینی عوام کے حقوق اور خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
پس منظر
1967 کی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے اور تعمیرات کو عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل وقتاً فوقتاً وہاں نئی بستیوں کی تعمیرات کی منظوری دیتا رہا ہے جس پر عالمی برادری بارہا تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔