اسرائیلی افواج نے 2002 کے بعد پہلی بار مغربی کنارے میں ٹینک تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے آپریشن کو مزید بڑھا دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد شمالی علاقے میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشن کو مزید توسیع دینا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں میں اگلے سال تک قیام کریں تاکہ ان علاقوں کو دہشت گردوں اور شہریوں سے پاک کیا جا سکے، اور 40,000 بے گھر فلسطینیوں کو واپس جانے کی اجازت نہ دی جائے۔اسرائیلی فوج نے جنین کے قریب برقیہ کے اہم چوراہے کو تباہ کیا، اور الخلیل، طولکرم، رام اللہ، اور قباطیہ میں چھاپے مارے اور سڑکوں کو کھود ڈالا۔ اس دوران حماس نے جنگ بندی مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک 620 فلسطینی قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا، وہ مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے۔ اسرائیل نے حماس پر قیدیوں کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی رہائی سے انکار کر دیا تھا۔اسرائیل پر فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ مصر اور قطر نے اسرائیل پر دباؤ ڈالا ہے، جبکہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اس ہفتے خطے کا دورہ کریں گے تاکہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی توسیع اور اسے محفوظ بنانے کی کوشش کریں۔