اسرائیلی افواج نے ایک بار پھر غزہ میں وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بدھ کے روز مزید 93 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جب کہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے ایک گاؤں پر حملہ کر کے مسجد کو آگ لگانے کی کوشش کی، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جابلیہ کے علاقے میں النضر خاندان کے گھر پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ متعدد زخمی ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہادتوں کی تعداد 93 ہو چکی ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ میں اب تک 53,655 فلسطینی شہید اور 1,22,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، تاہم حکومتی میڈیا دفتر کا کہنا ہے کہ شہداء کی اصل تعداد 61,700 سے تجاوز کر چکی ہے۔
مغربی کنارے میں مسجد پر حملہ
ادھر مغربی کنارے کے ضلع نابلس کے قریبی گاؤں عقربا میں یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کی املاک کو نذر آتش کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مسجد کو نمازیوں کی موجودگی میں آگ لگانے کی کوشش کی۔فلسطینی کارکن ایہاب حسن کے مطابق، یہ حملہ "زندہ انسانوں کو جلانے کی کوشش" کے مترادف تھا، جس نے عالمی سطح پر بھی شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
غیر ملکی سفارت کاروں پر فائرنگ
اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے جنین کیمپ کا دورہ کرنے والے غیر ملکی سفارت کاروں پر "خبردار کرنے کے لیے" فائرنگ بھی کی، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے سفارتی آداب اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ناکافی امداد پر اقوام متحدہ کی تنقید
عالمی دباؤ کے پیش نظر اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ 100 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم اقوام متحدہ کے مطابق یہ امداد نہایت ناکافی ہے اور زمینی حقائق میں کوئی بہتری نہیں آئی۔یہ تمام واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب عالمی برادری کی جانب سے اسرائیلی مظالم پر شدید تنقید جاری ہے، مگر موثر اقدامات کا فقدان بدستور برقرار ہے۔