عالمی ممالک کی مغربی کنارے کی غیرقانونی اسرائیلی اقدام کی سخت مذمت، ٹرمپ کا مخالفت کا اظہار

عالمی ممالک کی مغربی کنارے کی غیرقانونی اسرائیلی اقدام کی سخت مذمت، ٹرمپ کا مخالفت کا اظہار

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، او آئی سی، اور عرب لیگ سمیت 17 ممالک اور تنظیموں نے مغربی کنارے پر اسرائیلی کینسیٹ کی جانب سے منظور کردہ غیرقانونی بل کی سخت مذمت کی ہے۔

اس حوالے سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی خلاف ورزی ہے، جس میں 1967 سے فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی بیت المقدس، کی آبادی، کردار اور قانونی حیثیت میں تبدیلی کے اقدامات کی مخالفت کی گئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے، آبادکاری اور انضمام کے اقدامات کو غیرقانونی قرار دیا ہے، اور اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔ اسلامی ممالک کے مشترکہ بیان میں عالمی عدالت انصاف کی جانب سے غزہ میں امداد کے حوالے سے اسرائیلی ذمہ داری پر دی گئی رائے کا خیرمقدم بھی کیا گیا ہے۔

اس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات سے باز رکھا جائے اور عالمی برادری سے اس کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری پوری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، کا قیام خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔دوسری طرف، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو ضم کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، اور دنیا کو مغربی کنارے کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اس معاملے پر کسی بھی جواز سے انکار کیا اور اس کے ممکنہ اثرات کو نظر انداز کیا۔