سابق نگراں وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ چند علیحدگی پسند عناصر کھلم کھلا پاکستان کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں، ان کے لیے تشدد کی کوئی اہمیت نہیں، اصل چیلنج عام لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ "سپرنٹ موومنٹ" جیسی تحریکیں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران، افریقہ، بھارت اور دیگر ممالک میں بھی موجود ہیں۔ بلوچستان میں بھی چند افراد ایسی ہی تحریکیں چلا رہے ہیں، جو تاریخ کو اپنے نظریات کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ عناصر برطانوی دور حکومت اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ کا حوالہ دے کر 17 مارچ 1948 کو ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق پر سوال اٹھاتے ہیں، حالانکہ برطانوی راج کے خاتمے کے بعد قلات اور دیگر ریاستوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بعض علیحدگی پسند مختلف بہانے بنا کر پرتشدد تحریک چلا رہے ہیں، اور عوام میں نفرت پھیلانے کے لیے بیرونی سازشوں کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مزدوروں کو بسوں سے اتار کر قتل کرنا، دہشت پھیلانا اور تشدد کا سہارا لینا ان کی سوچ کا حصہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج بلوچستان میں تعلیمی ادارے، کالج، یونیورسٹیاں موجود ہیں، کہیں بھی کسی قسم کی ریاستی تفریق یا محرومی کا ثبوت نہیں، تو پھر اس نام نہاد جنگ کی کوئی منطق باقی نہیں رہتی۔انوار الحق کاکڑ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں سے لڑنا مشکل نہیں، اصل مسئلہ پاکستان کے عوام کو ان کے مذموم عزائم سے آگاہ کرنا اور انہیں حقیقت دکھانا ہے۔