آزاد کشمیر میں سیاسی بحران، پیپلز پارٹی کی اکثریت، انوار الحق کا استعفیٰ

آزاد کشمیر میں سیاسی بحران، پیپلز پارٹی کی اکثریت، انوار الحق کا استعفیٰ

آزاد کشمیر کے وزیراعظم انوار الحق نے اچانک اپنا استعفیٰ دے دیا ہے، جس سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

 اس سے قبل، پیپلز پارٹی نے دو دن پہلے انوار الحق کو ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا تھا، مگر اس سے پہلے کہ یہ تحریک پیش ہوتی، انوار الحق نے خود وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔اس وقت آزاد کشمیر میں سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ اسمبلی میں اکثریتی جماعت کے طور پر پیپلز پارٹی کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کی کابینہ کے 8 وزراء کل پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود بھی اپنے تمام حامیوں کے ساتھ پیپلز پارٹی کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔پیپلز پارٹی نے اس سے قبل، آصف علی زرداری کی قیادت میں، تحریک عدم اعتماد کا اعلان کیا تھا، اور انہیں رسمی اجازت بھی دی گئی تھی۔ فریال تالپور بھی کشمیر میں متحرک ہوئیں اور کئی ناراض وزراء سے ملاقاتیں کیں۔ نتیجتاً، 8 وزراء نے انوار الحق کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا، اور دیگر ارکان اسمبلی، جن میں جموں کے مہاجرین کی نشستوں سے منتخب ارکان بھی شامل ہیں، نے ان کی حمایت ترک کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق، اب پیپلز پارٹی کے پاس آزاد کشمیر اسمبلی میں کم سے کم 30 ارکان کی حمایت موجود ہے، جو حکومت بنانے کے لیے کافی سے زیادہ ہے۔

 اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی تنہا حکومت بنانے کے قابل ہو چکی ہے۔ اس صورتحال میں، تحریک انصاف کا اثر رسوخ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور ان کا فورا کوئی مؤثر کردار باقی نہیں رہا۔مسلم لیگ نون اس وقت آزاد کشمیر اسمبلی میں ایک چھوٹی سی سیاسی جماعت کے طور پر موجود ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ وہ نئی حکومت بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی، بلکہ پیپلز پارٹی ہی حکومت بنائے گی اور نون اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔فی الحال، پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کے لیے کوئی حتمی نام سامنے نہیں آیا ہے، مگر قیاس کیا جا رہا ہے کہ سینئر رہنما چوہدری یاسین کو یہ عہدہ سونپا جا سکتا ہے۔ چوہدری یاسین 2023 کے انتخابات میں اپوزیشن کے متفقہ امیدوار تھے، اور اب امکان ہے کہ انہیں نئی حکومت میں وزیراعظم بنایا جائے گا۔