سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ لوگوں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنا فریڈم آف اسپیچ نہیں ہے۔
انہوں نے جامعہ کراچی میں بائیو ٹیکنالوجی اور جنیٹک انجینئرنگ سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت معاشرتی روایت بن چکی ہے کہ لوگ سخت سوالات سے ڈرتے ہیں۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ سوالات کا مقصد سمجھانا ہوتا ہے، الجھانا نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا فزکس یا کیمیا میں ترقی سے حکومت نے روکا ہے؟ کیا یہ منع کیا گیا ہے کہ نئے مالیکیول کی دریافت نہ ہو؟سابق نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صرف گالیاں دینا تنقید نہیں ہے، اور ہمیں تنقید کے ماحول سے نکل کر مکالمے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دوسری عالمی جنگ میں 5 کروڑ افراد ہلاک ہوئے، اور تبدیلی انارکی کے خلاف ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، معاشرے کے پاس تبدیلی کے لیے چوائس موجود ہے۔