گجرات میں بھارتی فضائیہ کا طیارہ تباہ، پائلٹ ہلاک

گجرات میں بھارتی فضائیہ کا طیارہ تباہ، پائلٹ ہلاک

بھارتی ریاست گجرات میں ایک اور افسوسناک واقعے میں بھارتی فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں پائلٹ جان کی بازی ہار گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ تربیتی مشق پر تھا۔

یاد رہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ مارچ 2024 میں بھی بھارتی فضائیہ کے دو طیارے ایک ہی دن میں حادثے کا شکار ہوئے تھے، جن میں ایک جیگوار لڑاکا طیارہ بھی شامل تھا جو امبالا ایئربیس سے اڑان بھرنے کے بعد ہریانہ کے قریب تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں پائلٹ بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہا جبکہ حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی بتائی گئی۔اسی روز مغربی بنگال میں ایک اے این 32 ٹرانسپورٹ طیارہ بھی بگڈوگرا ایئرپورٹ پر گر کر تباہ ہوا تھا تاہم اس میں عملہ محفوظ رہا۔نومبر 2024 میں بھی ایک MiG-29 لڑاکا طیارہ آگرہ، اتر پردیش کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا۔

بھارتی فضائیہ کو شدید چیلنجز کا سامنا
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی فضائیہ کو درپیش یہ حادثات اس کے آپریشنل معیار، ٹیکنیکل تحفظ اور ساز و سامان کی حالت زار پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ کے جنگی طیاروں کے اسکواڈرنز کی تعداد 42 سے کم ہو کر صرف 30 رہ گئی ہے، اور خدشہ ہے کہ 2025-26 تک یہ مزید کم ہو کر 28 تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ تعداد بھارت کے دفاعی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ناکافی سمجھی جاتی ہے۔

مودی سرکار پر کڑی تنقید
ماہرین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کی دفاعی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ:"بار بار کے حادثات مودی حکومت کی نااہلی اور دفاعی شعبے میں بدترین منصوبہ بندی کی علامت ہیں۔ پرانے اور ناکارہ جہاز، کرپشن زدہ خریداری کے معاہدے اور محض دکھاوے کی اصلاحات — یہ سب بھارتی فضائیہ کو زوال کی طرف دھکیل رہے ہیں۔"مودی حکومت کے دعوے اور زمینی حقائق کے درمیان تضاد بھارتی دفاعی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کر رہا ہے، جبکہ خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں یہ صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔