پنجاب میں گندم بحران: مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ پنجاب پر سخت وار

پنجاب میں گندم بحران: مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ پنجاب پر سخت وار

خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے پنجاب اور ملک میں جاری گندم بحران پر سخت ردعمل دیا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 انہوں نے وزیراعلیٰ کی پالیسیوں کو "ٹک ٹاک پالیسیاں" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بندر کے ہاتھ ماچس لگ جائے تو پورے جنگل کو آگ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے، اور یہی حال اب پنجاب کا ہے۔

گندم بحران کی وجوہات پر سخت تنقید:
مزمل اسلم نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ناقص پالیسیوں نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے، جس کے باعث گندم کی پیداوار تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق، اس بحران کے باعث پاکستان کو 3 سے 4 ارب ڈالر کی گندم درآمد کرنا پڑے گی، جو معیشت پر مزید دباؤ ڈالے گا۔

کسانوں کا مالی نقصان:
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو 900 ارب روپے سے زائد کا مجموعی نقصان ہوا ہے، جس میں سے صرف پنجاب کے کسانوں کا نقصان 600 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ انہوں نے حکومت پنجاب کی جانب سے 5000 روپے فی ایکڑ کی مالی امداد کو مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رقم کھاد کی ایک بوری یا مزدور کی تین دن کی مزدوری کے برابر بھی نہیں ہے۔

سبسڈی اور اسکیموں پر سوالات:
مزمل اسلم نے انکشاف کیا کہ پنجاب حکومت نے صرف 500 ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقلی کی سبسڈی دی، لیکن مہنگی قیمتوں کے باعث کسانوں نے یہ اسکیم قبول ہی نہیں کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسانوں کو ہونے والے نقصان کا موازنہ سبسڈی کی رقم سے کیا جائے تو واضح فرق سامنے آتا ہے — صرف 11.5 ارب روپے کی سبسڈی اور 600 ارب کا نقصان۔

اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کا الزام:
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب پر مڈل مین کے ذریعے اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلور ملز اور گرین لائسنس ہولڈرز کو سود سے پاک اربوں روپے کے قرضے دیے گئے، اور گوداموں کے کرائے کی ادائیگیاں بھی انہی طبقات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا کی حکمت عملی:
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت جلد کسانوں کے لیے خوشخبری لائے گی، جیسا کہ گزشتہ سال براہ راست کسانوں سے گندم خریدی گئی تھی۔ انہوں نے پنجاب حکومت پر زور دیا کہ کسان دوست پالیسیاں اپنائی جائیں، نہ کہ انہیں نظرانداز کیا جائے۔

نتیجہ:
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کا یہ بیان ملک بھر میں جاری زرعی بحران اور کسانوں کے ساتھ حکومتی رویے پر جاری سیاسی و معاشی بحث کو مزید گرم کر سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب زرعی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔