خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق سے رقم کا حساب مانگ لیا، مشیر خزانہ مزمل اسلم کا گورنر پر تنقید

خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق سے رقم کا حساب مانگ لیا، مشیر خزانہ مزمل اسلم کا گورنر پر تنقید

وفاق کی جانب سے صوبے کو ملنے والی مختلف مدوں میں رقم کا حساب مانگنے پر خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق سے بھی این ایف سی، بجلی کے خالص منافع اور دیگر مدوں میں صوبے کا حصہ نہ ملنے کا حساب مانگ لیا۔

مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی حکومت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو ٹیوشن کی ضرورت ہے کیونکہ وہ کبھی خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن نہیں رہے اور انہیں صوبے کے حق کے بارے میں مکمل معلومات نہیں۔مزمل اسلم نے مزید کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا جو حساب کتاب مانگ رہے ہیں، اس کا جواب دینے کے لیے وہ تیار ہیں۔ انہوں نے گورنر سے سوال کیا کہ وفاق نے صوبے کا حق کیوں روکا ہوا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن ابھی تک چھ سو ارب روپے ہی ملے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبہ خیبرپختونخوا نے اپنے 50 ارب روپے خرچ کیے، اور نیٹ ہائیڈر پرافٹ کے تحت 1500 ارب روپے بنتے تھے لیکن صرف دو ارب روپے صوبے کو ملے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی کو حساب کتاب کی ضرورت ہے کیونکہ وہ کبھی اسمبلی کے رکن نہیں رہے اور اس حوالے سے مکمل معلومات نہیں رکھتے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت یا وفاقی اخراجات ہمیشہ بجٹ کی کتابوں میں موجود ہوتے ہیں اور ان کے بغیر کوئی نظام چل نہیں سکتا۔انہوں نے گورنر کے حوالے سے کہا کہ جو مدیں وہ بات کر رہے ہیں، وہ 2011 سے 2024 تک کے حسابات ہیں اور ان کا مجموعی حساب لگایا جائے تو 30 سے 35 ارب روپے سالانہ بنتے ہیں۔ مشیر خزانہ نے بتایا کہ وفاق نے سوات آپریشن کے بعد صوبے کو بحالی کے لیے ایک فیصد حصہ دینے کا وعدہ کیا تھا، تاہم اس رقم کا زیادہ حصہ ابھی تک نہیں ملا۔

مزمل اسلم نے بتایا کہ اس سال صوبے کو 93 ارب روپے ملے، جبکہ صوبے نے 140 ارب روپے پولیس اور سیکورٹی کے اخراجات پر خرچ کیے، اور 50 ارب روپے صوبے نے خود لگائے ہیں۔ 25ویں ترمیم کے بعد قبائلی علاقے صوبے میں ضم ہوئے، اور انضمام کے بعد 104 ارب روپے خرچ ہوئے، جن میں سے وفاق نے 66 ارب روپے دینے تھے، مگر صوبے نے 44 ارب روپے خود مہیا کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع کے لیے تین فیصد اضافی فنڈز دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو ایک ہزار ارب روپے بنتے ہیں، مگر اب تک صرف چھ سو ارب روپے ملے ہیں۔ اس کے علاوہ، بجلی کے خالص منافع کے مد میں 1500 ارب روپے بنتے تھے، لیکن صرف دو سو ارب روپے ہی صوبے کو ملے ہیں۔مزمل اسلم نے گورنر کو چیلنج کیا کہ انہیں حساب کتاب مل جائے گا کہ وفاق کے ذمے صوبے کا کتنا حق بنتا ہے اور وہ رقم کہاں غائب ہو گئی ہے۔